تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 852
پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ سیرالیون تحریک جدید - ایک الہی تحریک اسلام کے پہلے عرب اپنی خود پسندی اور انانیت کی وجہ سے اس امر پر فخر کرتے تھے کہ ہم کسی کی اطاعت نہیں کرتے۔ہم مطیع نہیں، مطاع ہیں۔اور اپنی جھوٹی انا کی خاطر بعض اوقات خون ریز جنگیں لڑتے ، بیسیوں خاندان تباہ ہو جاتے اور کئی جانیں تلف ہو جاتیں۔اس کی وجہ سے کئی دفعہ ان کی قومی زندگی خطرہ میں پڑا جاتی۔اسلام نے آکر انہیں وحدت کا سبق دیا، اطاعت کی تلقین کی۔عرب، جو ریت کے ذروں کی مانند متفرق تھے ، اب ایک مضبوط چٹان بن گئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنی اس نعمت کا ذکر یوں فرماتا ہے:۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا (آل عمران: 104) کہ خدا کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو۔اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم باہم دشمن تھے ، اس خدا نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی۔جس کے نتیجہ میں تم بھائی بھائی بن گئے۔تم آگ کے گڑھے کے کنارہ پر تھے، خدا نے تمہیں اس سے بچالیا۔اس سورۃ میں آگے چل کر فرمایا:۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ وَأُولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ (آل عمران : 106) کہ دیکھو اب ان لوگوں کی طرح نہ ہونا، جنہوں نے تفرقہ اور اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلے کھلے نشانات آئے۔یہی لوگ ہیں، جن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ابن جریح راوی ہیں کہ جب یہ آیت اتری۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الْأَمْرِ مِنْكُمْ کہ اے ایمان دار و اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے امیروں کی اطاعت کرو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔فقد من اطاعني فقد اطاع الله ومن يعصنى الله ومن يعطع الأمير فقد اطاعنى ومن يعص الأمير فقد عصاني 852 (مسلم باب وجوب طاعتہ الامراء)