تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 780
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ا ابھی کینیڈا سے ایک خط آیا۔اس میں انہوں نے لکھا کہ ایک چینی مسلمان ہوئے۔بد ہسٹ تھے وہ، پہلے مسلمان اور پھر احمدی مسلمان ہوئے۔ان کے دل میں اتنی محبت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی" وہ اپنے خرچ پر دس ہزار شائع کر کے سرخ چین میں خود اس کی اشاعت کا انتظام کریں گے۔اسی طرح ان کے علاوہ امسال مزید دو بدھ بھی احمدی ہوئے ہیں۔حالانکہ پہلے بدھوں کو توجہ نہیں تھی۔کیسٹ کے پروگرام کو جس طرح حکمت سے بعض جماعتیں استعمال کر رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو سب سے زیادہ نمایاں اور پیاری کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو مجھے بہت محبوب ہے۔وہ یہ ہے کہ مصطفیٰ ثابت صاحب نے چھ کیسٹ عربی زبان میں تیار کر کے دیئے تھے، جن کو ہم نے ساری دنیا کے مشنز میں بھجوادیا کیونکہ ہر شخص کو مہارت نہیں ہوتی کہ وہ عربی زبان میں کلام کر سکے تو ایک عرب عربوں کو مخاطب کرے۔ان کیسٹس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال ہیں عرب احمدی ہو چکے ہیں۔جرمنی کا تازہ وعدہ 590 بیعتوں کا ملا ہے۔یعنی جب سے وہاں مشن قائم ہوا ہے تو اس وقت سے وہاں گنتی کے چند نو مسلم ہوئے تھے۔اب جماعت میں اتنا جوش پایا جاتا ہے کہ ہر آدمی مبلغ بن رہا ہے اور ان کے وعدوں کی تعداد 590 تک پہنچ گئی ہے۔اب ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ان کا سہارا بنے ، ان کی کمزوریوں کو دور فرمائے ، انہیں استقامت عطا فرمائے ، ان کی زبان میں اثر پیدا کرے، ان کے اخلاق میں قوت جاذبہ پیدا کرے۔ایسا تقویٰ نصیب کرے، جو غالب آنے کے لئے پیدا کیا جاتا ہے، جو لاز ما فتح مند ہوتا ہے۔تو ساری دنیا سے انفرادی تبلیغ کی جو رپورٹیں مل رہی ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت خوشکن ہیں اور ساری جماعت کو ان سب کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔خواتین میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا جوش ہے۔اور ایک امریکن خاتون، جو جرمنی میں ہیں، ان کی رپورٹیں بھی بڑی کثرت کے ساتھ باقاعدہ ملتی ہیں۔وہاں وہ یورپین میں تبلیغ کر رہی ہیں۔یورپ میں ، بھی اور دوسرے ممالک میں کچھ ہوں گی۔لیکن ابھی بہت کمی ہے، اس لحاظ سے انہیں توجہ کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں کام پھیل رہا ہے اور نیک نتائج بھی پیدا ہور ہے ہیں، وہاں جماعت کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔کچھ ذمہ داریاں تو ایسی ہیں، جن کو پورا کرنا ہماری استطاعت میں ہوتا ہے اور ہم کرتے ہیں۔کچھ ایسی ہیں، جو ہماری استطاعت سے باہر ہیں لیکن ہماری دعا کی استطاعت سے باہر نہیں ہیں۔مثلاً افریقہ کے بعض ممالک شدید قحط سالی کا شکار ہو چکے ہیں اور نہایت خوفناک بھوک اس 780