تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 779

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1983ء اس کو یہ دلیل سمجھائی۔اس نے کہا: اگر تمہاری دلیل درست ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا کا گھر بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ بھی تو صحرا میں ایک ہی گھر ، ایک ہی خاندان تھا اور اس نے بھی بچے کو چھوڑ کر واپس چلے جانا تھا۔تو حج کا فیصلہ سنیے۔حج نے یہ فیصلہ کیا کہ لازما یہاں خدا کا گھر بنایا جائے گا اور جماعت کا مشن قائم کیا جائے گا اور میں حکم دیتا ہوں کہ اس تقریب میں سارے مخالفین پہنچیں اور شامل ہوں۔انفرادی تبلیغ پر جوز ور دیا جار ہا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بھی بہت ہی خوشکن نتائج نکل رہے ہیں۔انفرادی تبلیغ میں پہلے یہ روک تھی کہ بہت سے لوگ افریقہ میں بھی اور یورپ میں بھی سمجھتے تھے کہ ہمیں پورا علم نہیں، اس لئے ہم کس طرح تبلیغ کریں؟ تو بیرونی ممالک کے دورہ کے دوران بھی اور بعد میں بھی ہر جگہ بار بار میں نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں۔علم تو اللہ آپ ہی عطا فر ما دیا کرتا ہے۔ضرورت پڑتی تو ہے لیکن ایسی ضرورت نہیں کہ اس کے بغیر پیغام دیا ہی نہ جا سکے۔اصل تقویٰ ہے، اصل دل کی سچائی ہے۔تمہارے اندر سچا ہمدردی کا جذبہ ہونا چاہیے۔تمہاری بات میں سچائی کا وزن ہونا چاہیے۔اس لئے تبلیغ شروع کر دو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کثرت کے ساتھ باہر سے اطلاعیں مل رہی ہیں کہ جماعت کے نوجوان بھی ، بوڑھے بھی اور بچے بھی سارے تبلیغ شروع کر چکے ہیں اور بڑے بڑے خوش کن نتائج نکل رہے ہیں۔کیسٹس (Cassetes) کو بھی اس میں خوب استعمال کیا جارہا ہے۔چنانچہ انگلستان کے ایک نوجوان نے یہ عہد کیا کہ میں ضرور تبلیغ کروں گا۔اور ایک ہندو کو تبلیغ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اسے موقع عطا فرمایا اور وہ اس کی تبلیغ سے احمدی ہوا۔اس نے لکھا کہ صرف کیسٹس سنوا، سنا کر ہی اس کو میں نے قائل کیا ہے۔اور احمدی ہونے کے بعد اس نے چندہ بھی شروع کیا ہے۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد اسے میرا ایک خطبہ ملا، جس میں تھا کہ جماعت کے بعض لوگ اپنی آمد کم بتاتے ہیں اور چندہ پورا نہیں دیتے تو جھوٹ نہ بولا کریں، جو آمد ہے، وہ صحیح بتا ئیں اور اگر چندہ نہیں دے سکتے تو انہیں معافی مل جائے گی۔اگر ضرورت مند ہوں گے تو جماعت مدد بھی کرے گی۔یہ خطبہ سن کر وہ شیخ مبارک احمد صاحب کے پاس آیا اور بڑا ہی نادم تھا۔اس نے کہا: میں جب سے احمدی ہوا ہوں، اتنا چندہ دیتا تھا حالانکہ دگنا دینا چاہیے تھا تو اب میں پچھلا بھی سارا ادا کر رہا ہوں اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پورا دیا کروں گا۔اسی طرح احمدی نوجوانوں کی تبلیغ سے عیسائی بھی احمدی ہو رہے ہیں اور چینی بھی ہور ہے ہیں اور اس طرح غیر ممالک کے لوگ جو یورپ یا امریکہ میں گئے ہوئے ہیں، ان میں بھی تبلیغ ہورہی ہے۔779