تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 660
خطبه جمعه فرموده 21اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم موجود ہیں۔سب سے اہم بات، جو احمدیوں سے متعلق قابل ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنے کا مادہ بہت پایا جاتا ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت ان کی کیفیت بالکل مختلف تھی اور وہاں بہت جلدی یہ محسوس ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہاں ایک لمبے عرصہ سے مبلغین موجود رہے ہیں لیکن نظام جماعت کو سمجھانے کے سلسلہ میں بہت ہی معمولی کام ہوا ہے۔اور اکثر شکایتیں، جو نبی کی جماعت کے بعض دوستوں سے متعلق یہاں آیا کرتی تھیں، ان کی بنیادی وجہ ان کے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ نظام جماعت سے لاعلمی ہے۔اور یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ مبلغین نے یہ محنت اور کوشش ہی نہیں کی کہ انہیں نظام جماعت سے متعلق کچھ باتیں بتا ئیں۔اس میں بعض صورتوں میں ان کا قصور نہیں ہے۔کیونکہ ان کی توجہ جاتے ہی زیادہ تر تبلیغی کاموں میں لگ جاتی ہے۔اور ربوہ قادیان کے تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے احساس کا معیار بڑا بلند ہو چکا ہوتا ہے۔ان کے دماغ میں نظام جماعت اس طرح رج چکا ہوتا ہے کہ اس کے خلاف معمولی سی بات سے وہ مشتعل ہو جاتے ہیں، گھبرا جاتے ہیں اور پریشان ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمارے مبلغین نے یہ نہیں سوچا ( ان کی غیرت نظام جماعت کے لئے تو اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ محبین کے متعلق یہ تو معلوم کرلیں کہ انہیں نظام جماعت کا علم بھی ہے کہ نہیں؟ ان سے یہ توقع رکھنا کہ جس طرح قادیان کے تربیت یافتہ اور قدیمی بزرگوں کے پالے ہوئے لوگ ہیں، ویسے ہی وہ بھی نمونہ دکھائیں گے، جب تک انہیں بتائیں گے نہیں، کیسے دکھا ئیں گے؟ صرف میرا ہی یہ تاثر نہیں تھا بلکہ میرے ساتھیوں کا بھی یہی تاثر تھا کہ اکثر شکائتیں ان کی نا مجھی اور لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔چنانچہ جب ہم نے ان سے اس موضوع پر گفتگو شروع کی اور ساری شکایات سنیں ، حالات کا تجزیہ کیا تو انہیں اس معاملہ میں بالکل بے قصور پایا۔انہوں نے اپنے اندر حیرت انگیز طور پر تبدیلی پیدا کی اور اخلاص میں اس تیزی کے ساتھ ترقی کی کہ یہ چیز الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔ان کی فدائیت کا جذبہ کسی پہلو سے بھی پاکستان کے مخلص احمدیوں سے کم نہیں ہے۔ان میں خدمت کی روح نہ صرف موجود ہے بلکہ جب ہم نے اسے چھیڑا تو یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ چھلک چھلک کر کناروں سے باہر نکل رہی ہے۔وہ لوگ تبلیغ کے لئے مستعد ہیں اور خدا کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔شروع شروع میں اس قدر بے اعتنائی کا رنگ تھا اور ان کی آنکھوں میں نا واقفیت کی وجہ سے جو ایک اجنبیت ہی پائی جاتی تھی، چند دن کے بعد ہی جب ہم واپس آئے ہیں تو ان میں گہری محبت نے جگہ لے لی اور ان کی آنکھوں، اداؤں اور چہروں کے آثار میں نہایت گہرا خلوص نظر آنے لگا اور ان کی پیشانیوں سے پختہ ارادے ظاہر ہونے لگے۔660