تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 661
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1983ء اور ہم نے مشاہدہ کیا کہ ان کی نمازیں جو پہلے خشک تھیں، پھر تر ہونے لگیں۔اور بکثرت ایسے احمدی دیکھے جو پہلے ہمارے ساتھ ایک ہلکی سی ناواقفیت سے نماز پڑھتے تھے۔پھر ان کی کیفیت میں ایسی گہری تبدیلی پیدا ہو گئی کہ ان کی سجد گا ہیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انہیں عشق کی حد تک بڑی گہری محبت ہے۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ جب ہم نے انہیں قریب سے دیکھ کر ان کی تربیت شروع کی تو چند دن کے اندر اندر ہی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک نئی قوم وجود میں آگئی ہے۔چنانچہ جب یہاں سے اوکاڑہ کے ناصر احمد شہید کی خبر وہاں پہنچی تو ان لوگوں کی جو کیفیت تھی ، وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔اور ان کے امیر نے الوداع کے وقت جو آخری تقریر کی ، اس میں اس بات کا بھی ذکر تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس جماعت نے جو اثر قبول کیا ہے، اس کا وہ اظہار کرنا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی کئی موقعوں پر انہوں نے یہ بیان کیا کہ ہم غفلت کی حالت میں رہے ہیں، جس کے لئے ہم کثرت سے استغفار کر رہے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری گزشتہ غفلتیں معاف فرمائے اور ہم نے جو نئی زندگی حاصل کی ہے، نیا جنم لیا ہے، اللہ تعالی اس میں ہمیں پیش از پیش ترقیات عطا فرماتا چلا جائے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب تو جو ہماری کیفیت ہے، اسے ہم الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ہمارا ایک نیا وجود ابھر آیا ہے اور آج ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ احمدیت کیا ہے؟ اور اس علم کے بعد اب ہمارے جذبات یہ ہیں کہ ہمارا بچہ بچہ، ہماری عورتیں، ہمارے بوڑھے، ہمارے جوان شہادت کے لئے بخوشی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مبالغہ نہیں کر رہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ اسلام کی خاطر ہم سب کی جانیں حاضر ہیں۔اگر وہ بکریوں کی طرح ذبح کی جائیں، تب بھی ہمیں کچھ بھی پرواہ نہیں ہوگی۔ہمارے اموال، ہماری عزتیں حاضر ہیں۔اور اس یقین کے ساتھ آپ واپس لوٹیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل - خدمت کی جس راہ پر بھی آپ بلا ئیں گے، ہم حاضر ہوں گے۔ایسا روح پر وروہ نظارہ تھا کہ اگر چہ میرا دل پہلے بھی ان کی زبان سمجھ رہا تھا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔لیکن جب الفاظ میں انہوں نے بیان کیا تو میری توجہ اس واقعہ کی طرف پھر گئی، جو عظمت میں اس سے بہت بلند ہے لیکن دراصل اسی کے صدقے اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔جنگ بدر کا وہ منظر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں سے پوچھا تھا کہ مجھے مشورہ دو۔یہ ایک لمبا واقعہ ہے، جو بار بار آپ سن چکے ہیں لیکن پھر بھی اس کا مزہ آتا ہی رہتا ہے۔اس کا باقی 661