تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 652
اقتباس از خطاب فرمودہ 20اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس مساجد اور مشن ہاؤسز کے اس قسم کے نقشے چاہئیں، جو ہماری روزمرہ کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔اب آسٹریلیا کی مسجد کا بھی ابھی نقشہ منظور نہیں ہوا۔( آخری شکل میں) کیونکہ وہاں جا کر میں نے دیکھا تو اس میں ابھی کئی خامیاں تھیں۔اسی طرح آرکیٹیکٹ سے شرائط بھی ابھی طے نہیں ہو ئیں۔بہر حال چونکہ مجھے نقشہ پر پوری تسلی نہیں ہے، اس لئے وہ نقشہ بھی از سرنو ایک نئے IDEA کے ساتھ تجویز کرنا ہو گا۔نہایت خوبصورت عمارت لیکن اس میں سادگی ہو۔توحید کا جو تصور ہے، وہ عمارت کی ساخت سے نمایاں ہو۔کیونکہ یہ پہلی مسجد ہے، جو جماعت کی طرف سے وہاں بنائی جانے والی ہے۔لہذا خوب غور و فکر سے اس کا نقشہ تجویز ہونا چاہیے۔انشاء اللہ تعالیٰ اس عمارت پر آئندہ آسٹریلیا میں توحید کی بنیاد ڈالی جائے گی اور سارے آسٹریلیا کو یہ مرکز تو حید پر اکٹھا کرنے والی ہوگی۔وباللہ التوفیق۔پس اس کے ڈیزائن میں کچھ ایسا حسن ہونا چاہیے، جو وحدت کا اعلان کر رہا ہو۔غرض یہ کہ اس قسم کے کام ہیں، جو آرکیٹیکٹس کے سامنے ہیں۔بہت ہی بھر پور کام کرنا پڑے گا۔یہ کام وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کر بھی رہے ہیں لیکن مزید ضرورت ہے۔اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ آپ کے صدر صاحب ایسے آرکیٹیکٹس کو لکھ کر پہلے ساری دنیا میں ضرورتیں بیان کریں، انہیں بتائیں کہ یہ یہ جماعتی خدمات آپ کے سامنے پڑی ہوئی ہیں، ان میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ کس حد تک مدد کرنے کے لئے تیار ہیں؟“ وو پس اس لحاظ سے بڑی غیرت کا مقام ہے اور یہ جب میں سوچتا تھا تو بڑی تکلیف پہنچتی تھی کہ مشرق میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے، جو سائنس کے علاوہ ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہا ہو۔اور ایک بھی ملک کی چھاپ آپ کو نظر نہیں آتی کہ یہ فلاں ملک کی ACHIEVEMENT ہے، جو مسلمان ملک ہے۔اب ان کی ذمہ داری بھی آپ نے اٹھانی ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ پر ڈال جو دی ہیں۔اس لئے جب ہم کہتے ہیں کہ مسلمان ملک آگے نہیں آرہا تو جن میں خدا تعالیٰ نے ایک نئی زندگی کی لہر چلائی اور اسلام کو ہر شعبہ میں فتح مند کرنے کی ذمہ داریاں ان پر ڈال دی ہیں ، جوز یر الزام آئیں گے۔اگر وہ اس سے غافل ہیں تو سب کی غفلت کا داغ انہی پر لگے گا، جو عند اللہ ذمہ دار بنائے گئے ہیں کہ اس دنیا میں اسلام کی ساری دنیا قدروں کی حفاظت کریں اور اسلام کی ساری قدروں کو اپنا کر آگے بڑھا کر چلیں۔اس لئے جب میں یہ کہتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں کے سخت پسماندہ رہ جانے سے سخت تکلیف پہنچتی ہے تو اس تلافی کا مداوا کرنا اور اس پانسے کو پلٹنا، اولین طور پر احمد یوں کی ذمہ داری ہے۔وہ جن کا دعوی یہی ہے کہ سارے عالم اسلام کا درد ہمارے جگر میں ہے۔اس درد کا مداوا کرنا بھی تو انہی کا کام ہے۔اگر احمدی آگے 652