تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 640

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وہ لوگ بگڑ چکے تھے اور فتح سے استفادہ نہ کر سکے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ملے اور فتح عطا ہو تو فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ اپنے رب کی تسبیح کے ترانے گانا اور اس کی حمد کرنا۔یعنی دو طرح کی قوتیں اپنے رب سے حاصل کرنا۔ایک تو یہ کہ تسبیح کے ذریعہ خدا کے حضور یہ عرض کرنا کہ ہم تو نقائص سے پاک نہیں ہیں، ہماری تو ہر چیز میں غلطیاں ہیں، اس لئے اے خدا! تو غلطیوں سے پاک ہے، ہم تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اس فتح میں ہماری غلطیوں کے نتیجہ میں جو کمزوریاں رہ جائیں، ان سے ان قوموں کو محفوظ رکھنا ، جو اسلام میں داخل ہورہی ہیں۔یہ نہ ہو کہ ہم اپنی بدبختی سے اپنی کمزوریاں ان میں داخل کر دیں۔اور چونکہ یہ بھی کمزوریوں سے پاک نہیں ہیں، اس لئے یہ نہ ہو کہ جب یہ لوگ ہمارے اندر آئیں تو اپنے بد خیالات اور بد رسوم اور کمزوریاں لے کر داخل ہو جائیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی مذاہب غلبہ پاتے ہیں ، یہ Process اور یہ واقعہ ضرور رونما ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایک طرف تو یہ ہوتا ہے کہ داخل ہونے والے جب پہلوں کی کمزوریاں دیکھتے ہیں تو ان میں سے بعض ٹھو کر کھاتے ہیں اور واپس پھر رہے ہوتے ہیں یعنی مرتد ہورہے ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کو قریب سے دیکھتے ہیں، ان کو نظر آتا ہے کہ ان میں تو بہت سی بیماریاں ہیں، یہ تو اتنے اچھے نہیں، جتنے سمجھ کر ہم داخل ہوئے تھے تو دوسری طرف بعض لوگ جو واپس نہیں جاتے بلکہ اکثر ہیں، جو واپس نہیں جاتے مگر وہ ان کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جو پہلے موجود ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔جس طرح پہلے تھے، اس طرح اب بھی ہیں۔اور پہلے اگر کمزور تھے تو یہ لوگ بھی تو کمزور ہیں۔ان کمزوریوں اور بدیوں میں مبتلا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔پس وہ قوم بڑی بد قسمت ہوتی ہے، جس کو خدا فتح نصیب کرے اور وہ خدا کی عطا کردہ اس فتح کے مزاج کو بگاڑ دے۔دوسری طرف یہ لوگ برائیاں لے کر آتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لیں ، اسلام کی تاریخ میں اکثر بدعات اور نقائص ملکی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوستان کی اور قسم کی بدعات ہیں، وہاں اور قسم کی رسوم ہیں، جنہوں نے اسلام میں رواج پایا، ایران کی فتح کے وقت اور قسم کی بدیاں داخل ہوئیں۔عیسائی آئے تو کچھ اور قسم کی بدیاں لے کر آئے، یہودی داخل ہوئے تو وہ اپنے مزاج کی بدیاں لے کر آئے، مشرک کچھ اور بدیاں لے کر آگئے۔تو آنے والے بھی اپنی ساری بدیاں چھوڑ کر نہیں آیا کرتے۔وہ کچھ بدیاں ساتھ لے کر آتے ہیں، جن کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے تسبیح کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام دیا کہ نہ آنے۔640