تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 641
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 14 اکتوبر 1983ء والے پاک ہیں، نہ تم پوری طرح پاک ہو۔اگر تم نے اپنے رب کی تسبیح نہ کی اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور عاجزانہ یہ عرض نہ کیا کہ اے خدا! نہ صرف یہ کہ ہماری بدیاں ان تک نہ پہنچیں بلکہ انہیں بھی پاک فرمادے تا کہ ان کی بدیاں ہم میں داخل نہ ہوں۔اس وقت تک یہ فتح تمہارے کسی کام نہیں آسکتی۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس فتح کو تم بالکل اس لائق نہ رہنے دو کہ مذہبی تاریخ میں اس کی کوئی حیثیت باقی رہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے، میں اس سے اگلے قدم میں داخل ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے حمد کا پیغام دیا۔خدا کی حمد کے گیت گانے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی گویا ہماری حمد کا پیاسا بیٹھا ہوا ہے کہ ا پہلے تسبیح کر دیں، پھر حد کر دیں تو اسے اس فتح کی جزامل جائے گی، جو اس نے عطا کی ہے۔اگر کسی کے دماغ میں یہ خیال ہے تو نہایت لغو خیال ہے۔وہ تو تسبیح وتحمید سے بھی مستغنی ہے، وہ تو ساری کائنات کا مالک ہے، انسان پیدا ہو یا نہ ہو، یہ زمین اور یہ زمانہ ہو یا نہ ہو، وہ ساری کائنات پر حاوی ہے، سارے زمانوں پر حاوی ہے۔یہ جو پیغامات دیتا ہے، یہ ہمارے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔فرماتا ہے: جب خدا کی حمد میں داخل ہو گے تو یہ دعا کرنا، جس سے تمہارے دل میں بے قرار تمنا خود بخو داٹھنے لگے گی۔اللہ کی ذات پر غور کرو گے، اس کی صفات پر غور کرو گے تو پھر تمہارے دل سے یہ دعا نکلنی چاہئے کہ اے خدا! جہاں بدیوں کا بائیکاٹ ہو جائے ، نہ وہ ہم سے لیں ، نہ ہم ان سے لیں ، وہاں حمد دونوں طرف سے بہنے لگے۔وہ اپنی خوبیاں لے کر ہمارے اندر داخل ہوں اور ہم اپنی خوبیاں ان کے اندر داخل کر رہے ہوں اور ایک عظیم الشان قوم وجود میں آ رہی ہو۔تو اسلامی فتح کا یہی وہ تصور ہے، جسے احمدیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔کیونکہ مجھے ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انشاء اللہ بہت جلد فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہونے والے ہیں اور مشرق بعید میں خدا تعالٰی نے نئی فتح کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ایسے دلوں میں انقلاب برپا ہورہے ہیں کہ وہ سننے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔جب اسلام کا پیغام سنتے ہیں تو شکوے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ، تم لوگ پہلے کہاں تھے؟ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے ؟ اس لئے میں نے سوچا کہ اس فتح نے تو آنا ہی آنا ہے۔اب یہ خدا کی تقدیر ہے، جو لکھی گئی۔کوئی نہیں، جو اس تقدیر کو بدل سکے۔آپ ان لوگوں کو محبت اور پیار کے ساتھ وصول کرنے کی تیاری کریں۔اپنے دل صاف کریں، اپنے اخلاق اور اطوار کو درست کریں ، اپنے خیالات کو پاکیزہ بنائیں، اپنے اعتقادات کی حفاظت کریں، آپ پر بہت بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔آپ ان کے میزبان بننے والے ہیں۔اس لئے بدیوں کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط کریں تا کہ جب ان نئی قوموں سے آپ کا 641