تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 639
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء اس مضمون میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف خوشخبری دی بلکہ بعض ایسی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جن کی طرف عام طور پر انسان توجہ نہیں کیا کرتا۔جب بھی کسی کو فتح ملتی ہے، جب بھی کسی کو نصرت عطا ہوتی ہے، دماغ میں ایک کیڑا آ جاتا ہے کہ یہ میری کوشش سے ہوا ہے، میری چالاکیوں سے ہوا ہے، میرے علم سے ایسا ہوا ہے، میں نے کیسی اچھی تنظیم کی تھی، کیسی اچھی تدبیر کی تھی، کیا اچھا لیکچر دیا تھا، کیسی اچھی کوشش کی تھی ، انسانی نفس انسان کو اس قسم کے تو ہمات میں مبتلا کرتارہتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ نصرت اور فتح تمہاری کوشش سے ہوگی۔تم اپنی کوشش سے تو دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے۔تم اس لائق نہیں ہو تم اس قابل نہیں ہو کہ عظیم الشان کام کر سکو اور دلوں میں ایک انقلاب برپا کر سکو۔یہ خدا کا کام ہے۔اس لئے اللہ کی نصرت آئے گی، اللہ کی طرف سے فتح آئے گی اور یہ خدا ہی ہے، جو لوگوں کو فوج در فوج اسلام میں داخل کرے گا۔فرماتا ہے:۔فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ جب خدا کی طرف سے فتح ونصرت عطا ہو تو اس وقت تمہیں چاہئے کہ خدا کی تسبیح کرو اور اس سے استغفار کرو۔بظاہر تو اس کا فتح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فتح کے وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ شادیانے بجاؤ ، اچھلو اور کو دو اور جشن مناؤ لیکن خدا تعالیٰ نے ان چیزوں میں سے کسی کا ذکر نہیں فرمایا۔بلکہ فرمایا: جب خدا کی طرف سے نصرت آئے اور فتح ملے۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ تو خدا تعالیٰ کی تسبیح بھی کرنا، اس کی حمد کے ترانے بھی گانا اور استغفار بھی کرنا۔تا کہ تمہارے نفس میں انانیت کا اگر کوئی ادنی سا بھی کیڑا پیدا ہو تو وہ کچلا جائے۔تمہاری توجہ اس طرف پھر جائے کہ جس ہستی نے یہ نصرت عطا کی ہے، میں اس کی حمد کے گیت گاؤں۔جس نے ہمیں یہ فتح نصیب فرمائی ہے، اس کی تسبیح کروں۔تسبیح وتحمید اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس فتح کا فائدہ کوئی نہیں ہو سکتا، جو فتح دین کی فتح ہوا کرتی ہے۔اگر آپ تسبیح اور تحمید کے بغیر دین میں کوئی فتح حاصل کریں گے تو وہ ضائع چلی جائے گی۔اور بجائے فائدہ کے بسا اوقات نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔دین کا ایک غلبہ تو مقدر ہوتا ہے۔لیکن بعض دفعہ وہ مقدر ایسے وقتوں میں آ جاتا ہے، جب دین بگڑ چکا ہوتا ہے۔خدا نے تو وہ وعدہ پورا کر دیا، اس نے دین کو فتح عطا کر دی۔لیکن لوگ بگڑ چکے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عملا وہ فتح بر کار ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایسی کئی قومیں ہمارے سامنے ہیں، جن کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے تو ان کو فتح عطا فرما دی لیکن بد قسمتی سے 639