تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 584
خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کے پیروکار ہیں۔لیکن دوسروں سے کہیں بڑھ کرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین اپنے آپ کو ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ابراہیم کا پیر شمار ہونے میں یک گونہ فخر محسوس کرتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔آج دن میں پانچ دفعہ بلند ہونے والی آذان پر کروڑوں لوگ ( جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے ) کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے میناروں سے دی جانے والی اذان، جو کبھی صرف قرب وجوار میں بسنے والوں تک ہی پہنچتی تھی ، ایام حج میں اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ دنیا کے کونہ کونہ اور بستی بستی میں سنائی دیتی ہے۔اور چاروں طرف سے کرہ ارض کو گھیر لیتی ہے اور دنیا کے کونہ کونہ سے کروڑ ہا بندگان خداس آواز کا جواب دیتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ:۔لبیک اللهم لبیک لاشریک لک لبیک لك الحمد والنعمة نبيك ترجمہ: اے ہمارے اللہ! ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں۔سب تعریف تیرے ہی لئے ہے اور ہر نعمت تجھ سے ہے، ہم تیرے حضور حاضر ہیں۔لیکن اس کے بالمقابل فرعون کی وہ آواز ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی ، جو ایک دن بڑے تکبر سے یہ کہہ رہی تھی کہ :۔”اے ہامان ! مٹی کو پختہ کرنے کے لئے آگ جلاؤ اور ایک بلند و بالا عمارت تیار کرو تا کہ میں بھی ذرا دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا خدا کن بلندیوں میں بستا ہے؟ لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ میں موسیٰ کو جھوٹوں میں شمار کرتا ہوں۔پس آج یہ کہنا کہ جس گھر کا سنگ بنیا در رکھنے کے لئے ہم اس وقت جمع ہوئے ہیں، یہ اپنی رفعتوں میں اونچی سے اونچی اور بلند سے بلند تعمیر سے بھی بالاتر ہے۔اور دنیوی اغراض کے لئے انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا کوئی بلند سے بلند ٹاور بھی خدائے واحد کے اس گھر کے قدموں کو نہیں چھوسکتا۔بلکہ ہمالہ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابل پر کوتاہ قامت ہیں۔تو یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ یہ تو مذہب کی اصطلاحیں ہیں، جو مادی نہیں بلکہ روحانی معنی رکھتی ہیں۔لیکن یہ اصطلاحیں محض فرضی اصطلاحیں اور خوش فہمی کے قصے نہیں بلکہ باقی رہنے والی ٹھوس حقیقوں اور تاریخی شواہد پر مبنی ہیں۔ایک بات میں نے اس خطاب کے آغاز میں ایسی کہی تھی ، جو آسٹریلین کانوں کو بہت عجیب لگی ہوگی۔وہ بات میں نے یہ کہی تھی کہ آج کا دن صرف جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ آسٹریلیا کی 584