تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 583

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تھی۔آج موسی" کے دعوی کو دنیا کی تین عظیم ترین مذہبی تو میں تسلیم کرتی ہیں۔اس کے بلند مرتبہ کا اقرار کرتی ہیں اور ادب و احترام سے اس کا نام لیتی ہیں۔مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کی عظمت میں کمی آنے کی بجائے مزید وسعت اور مزید رفعت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ان حالات کی طرف متوجہ کر کے قرآن کریم ہمارا ذہن اس ازلی ابدی سچائی کی طرف مبذول کرواتا ہے کہ مادی اقدار اور ترقیات، مذہبی اقدار اور ترقیات کے مقابل پر محض بے حقیقت اور لاشی ہیں۔کیونکہ ان کا پیغام مردہ ہے، جبکہ مذہبی اقدار کے اندر ایک زندہ روح کارفرما ہوتی ہے۔خدائے واحد کی عبادت کے لئے تعمیر ہونے والے پہلے گھر کی طرف عود کرتے ہوئے ، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس معمولی اور ظاہری لحاظ سے بے حقیقت عمارت پر بھی اگر چہ امتداد زمانہ نے اپنے سب حربے استعمال کئے اور فنا کا ہاتھ اگر چہ اس پر بھی اسی طرح مصروف عمل رہا، جس طرح دنیا کی دوسری عالیشان عمارتوں پر ، جو محض مادی اغراض کے لئے بنائی گئی تھیں۔اور اگر چہ اسے بھی پرانی بنیادوں پر از سر نو تعمیر کیا گیا تاہم خدا کے اس گھر کی معمولی سی عمارت میں اور دنیوی عمارتوں میں ایک فرق بڑا مین اور واضح ہے۔اور وہ یہ کہ دنیوی عمارتوں میں سے ایک بھی تو ایسی نہیں ، جو اپنے مقام اور مقاصد کے اعتبار سے زندہ ہو۔اہرام مصر تو ہیں مگر بے جان لاشے کی طرح۔ان کے جسم سے عصر فرعونی کی روح پرواز کر چکی ہے۔یہ ایسی حنوط شدہ لاشوں کی طرح ہیں، جن کے بدن روح سے خالی ہوں۔ان عمارتوں کی حیثیت ایسے غیر آباد گھونسلوں کی سی ہے، جن میں بسیرا کرنے والے پرندے ہمیشہ کے لئے ان میں سے پرواز کر گئے ہوں۔فرعون مصر کے وہ مقاصد، جوان عمارتوں کے ساتھ وابستہ تھے، ہزار ہا برس پہلے مر چکے ہیں۔آج کون ہے، جو فراعنہ مصر کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا پسند کرتا ہے؟ اور کون ہے، جو ان کی ناموس کے لئے غیرت رکھتا ہو یا ان کی خاطر کٹ مرنے کو تیار ہو ؟ اب ذرا اس کے مقابل پر خانہ کعبہ کو ازسر نو تعمیر کرنے والے ابراہیم کو دیکھو! اس کے مقدس ہاتھوں کی ظاہری تعمیر آج بھی اسی طرح محفوظ ہے۔یہی نہیں، اس کی حدود نئی وسعتوں سے اور اس کی عمارت نئی سر بلندیوں سے ہمکنار ہوتی چلی آرہی ہے۔یہ آج بھی زندہ ہے اور اپنی زندگی کا پہلے سے کہیں بڑھ کر ثبوت دے رہی ہے۔یہی حال ان مقاصد کا بھی ہے، جو اس کی تعمیر کے ساتھ وابستہ کئے گئے تھے۔وہ پہلے سے کہیں بڑھ کرشان کے ساتھ زندہ اور سر بلند ہیں۔آج موسیٰ کی پیروی کرنے والے اپنے آپ کو ابراہیم کا بھی پیرو کا رظاہر کرتے ہیں۔اسی طرح مسیح کے ماننے والے بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ابراہیم 583