تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 568 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 568

خطبہ جمعہ فرمود 300 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کر باہر نکلے تو یہی لوگ جو پہلے شرمایا کرتے تھے ، انہوں نے ان کی پیروی کرنی شروع کر دی۔اور اپنے معاشرہ میں اسی طرح سر منڈوا کر پھرنے لگے کہ اب یہ فخر کی بات ہے۔ایک طرف ایک آزاد قوم ہے جس کا رعب ہے۔دوسری طرف ایک غلام ذہنیت ہے، جو اس رعب کے تابع ہے۔اور چپ کر کے اسے اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔کسی زمانہ میں کوئی آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ حلیہ بنا کر ہپیز (Hippies) کی طرح کوئی انسان اپنی سوسائٹی میں پھرے۔بلکہ جس زمانہ میں انگریز قوم ایک خاص لباس پر غیر معمولی توجہ دیا کرتی تھی، یعنی اکڑے ہوئے کالر اور خاص قسم کی ٹائیاں اور خاص قسم کے ہیٹس (Hats) تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس زمانہ میں اس سے کم لباس کو جہالت سمجھتے تھے اور اپنی قوم کو حقارت سے دیکھا کرتے تھے اور کہتے تھے ، بھلا یہ بھی کوئی لوگ ہیں، جو دنیا میں بس رہے ہیں اور شلوار میں پہنی ہوئی ہیں بیوقوفوں کی طرح اور چونے پہنے ہوئے ہیں اور احمقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔پگڑی کا تو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔لیکن جب مغربی قوموں نے یہ باتیں شروع کیں تو انہوں نے حد سے زیادہ بے ہودہ اور لغو لباس اختیار کر لیا اور یہ ان کے لئے فخر کا نشان بن گیا۔انہوں نے آزادی سے یہ کیا ہے، وہ غلام نہیں تھے۔ان کی آزادی نے ایک غلط راستہ اختیار کر لیا۔انہوں نے آزادی کا مطلب یہ سمجھا کہ اب ہم آزاد ہیں، دنیا جہان کی ہر بیت اختیار کرنے پر اور ہر گندگی اختیار کرنے پر۔اور ان کی آزادی جب اس راستے پر چلی تو غلام لوگوں نے ان کی پیروی ان راستوں پر بھی شروع کر دی۔پس حقیقت یہ ہے کہ دو نظریات کی جنگ ہے۔اس کو سمجھنا پڑے گا۔یا وہ رعب ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمایا اور آپ کو ایک ایسا معاشرہ بخشا، جو دنیا کے رعب سے بے نیاز کر دیتا ہے۔اور یا وہ دنیا کا رعب ہے، جو جہاں چاہے گا، آپ کو لئے پھرے گا۔کوئی اس میں مقام نہیں ہے، کوئی اس کی منزل نہیں ہے، کوئی رخ معین نہیں ہے، جس طرف وہ آزاد تو میں اپنے دماغ کے پھرنے کے نتیجہ میں پھر جانے کا فیصلہ کریں گی، آپ لوگ ان کے پیچھے پیچھے پھریں گے۔اور اس وقت وہ معاشرہ ایسی گندگی میں داخل ہو چکا ہے کہ سوائے دکھوں کے اس کا اور کوئی انجام نہیں رہا۔ان قوموں میں اندرونی طور پر بڑی تیزی سے یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری کوئی زندگی نہیں۔لذتوں کی تلاش ان کو ایسی بھیانک جگہوں پر لے جاچکی ہے کہ وہاں لذتوں کی بجائے گندگی ہے۔اور اس کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔مغربی قوموں نے اس آزادی کے نتیجہ میں لذت یابی کے ایسے ایسے خوفناک طریق سیکھتے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک Sadism ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک 568