تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 569
تحریک جدید- ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء جانوروں کی طرح کسی کو مارو نہیں اور تقریباً ادھ موانہ کر دو، اس وقت تک نہ جنسی لذت اس میں پیدا سکتی ہے اور نہ اس میں پیدا ہو سکتی ہے۔اب لذت یابی کا ایک یہ تصور ہے۔کچھ دیر Sadism پر رہے، اب اس نے ایک اور شکل اختیار کرلی ہے کہ جب تک چھوٹے بچوں کو ہوس کا نشانہ نہ بناؤ، اس وقت تک تمہیں کوئی جنسی لذت حاصل نہیں ہوگی۔چنانچہ امریکہ کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق وہاں کی آبادی کے 30 فیصد لوگ بچوں پر ظلم کرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔اور جو بچے ان کے مظالم کا شکار ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ کے لئے زندگی کی لذت کھو بیٹھتے ہیں۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں ان کے پاگل خانے بھر رہے ہیں، اعصابی مریض دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، جرم بڑھتا جا رہا ہے۔لیکن اندھی تقلید کرنے والے اس خیال سے کہ یہ ماڈرن قومیں ہیں، ان کے پیچھے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں۔لیکن جماعت احمدیہ کے افراد کوتو سراو نچا کر کے ان کو اپنی طرف بلانا ہے کہ ادھر آؤ، ہم تمہیں تہذیب سکھاتے ہیں۔تم غلط راستے پر چل رہے ہو، تمہاری راہیں غلط ہیں، تم دنیا کے کیڑے بنتے چلے جا رہے ہو، تمہیں اس کا کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔اب ظاہر ہے، اگر اس کی بجائے آپ خود ہی ان سے متاثر ہو جائیں، ان سے شرمانے لگ جائیں اور یہ خیال اپنے اوپر غالب کر لیں کہ دنیا ہمارے متعلق کیا کہے گی ؟ تو پھر تو آپ دنیا کا کوئی کام نہیں کر سکیں گے۔اس لئے میں احباب جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے اندر احساس برتری پیدا کریں اور اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں کہ اسلام کی جو آزادی ہے، وہ دراصل اللہ کی غلامی میں ہے۔یہ ایک ایسا لفظ ہے، جو آزادی کے تصور کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ تفصیلی جائزہ لے کر دیکھ لیں، اس سے بہتر تعریف اور کوئی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میری غلامی اختیار کرو تو تمام جھوٹے خداؤں سے تم آزاد ہو جاؤ گے۔یہ غلامی تمہیں ہر دوسرے جذبہ اور ہر دوسرے نظریہ سے آزادی عطا کرے گی۔جب کہ خدا کی غلامی سے نکلنا نام ہے، ہر دوسری چیز کی غلامی کا۔یہ ہیں وہ دو نظریات ، جن کی آپس میں جنگ جاری ہے۔میں نے آپ کو اس کے متعلق مختصر آبتایا ہے۔ورنہ گھنٹوں اس کی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ کس طرح خدا کی اطاعت کتنی ہی قسموں کی غلامیوں سے آزاد کرتی ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنا، انسان کو دنیا کا غلام در غلام بناتا چلا جاتا ہے۔وہ رسموں کا غلام بن جاتا ہے، معاشرہ کا غلام بن جاتا ہے، پیٹ کا غلام بن جاتا ہے، نفسانیت کا غلام بن جاتا ہے۔غرضیکہ غلامی کے تصور کی کوئی ایسی بھیانک چیز نہیں ہے، جو اس میں نہ پائی جاتی ہو۔اس لئے صرف نام رکھ لینا تو آزادی نہیں کہلاتی۔اس میں کوئی 569