تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 567

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء ہوئے ہیں ، تم خواہ مخواہ ہمیں قدامت پسند سمجھ رہے ہو اور پرانے زمانوں کے لوگ کہہ رہے ہو ، ہم میں اور تم میں تو کوئی فرق نہیں۔یہ وہ روح ہے، جس کا قرآن کریم نے کھلا کھلا تجزیہ کیا ہے۔کیسی عظیم کتاب ہے کہ جس کی نظر سے کوئی باریک سے باریک روحانی بیماری بھی چھپی ہوئی نہیں۔اور پھر ان کا علاج بتاتی ہے۔اور اس کا علاج صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ خدا سے تعلق پیدا کرو۔مذہبی بیماریوں کا اس کے سوا اور کوئی علاج نہیں۔یہ ہر علاج کا مرکزی نقطہ ہے۔زندگی کے چشمہ سے تعلق پیدا نہیں ہوگا تو بیماریوں کا مقابلہ کیسے ہو سکے گا؟ تو انائی کیسے آئے گی؟ اس لئے اللہ سے تعلق ہے، جو دراصل آپ کا علاج ہے۔اللہ تعالیٰ سے پیار اور ایسا ذاتی اور - قطعی تعلق پیدا کیا جائے کہ جس کے مقابل پر دنیا بالکل حقیر اور بے معنی اور بے حقیقت نظر آنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب کے دل میں اللہ کا وہ پیار تھا اور پھر ساتھ عظمت کردار بھی تھی۔وہ لباس پہنا کرتے تھے۔ہر قسم کا لباس پہن لیتے تھے۔لیکن لباس ان کا غلام رہتا تھا ، وہ لباس کے کبھی غلام نہیں بنے۔کھانے اچھے بھی کھاتے تھے، اچھی جگہوں پر بھی رہتے تھے لیکن ہمیشہ ان چیزوں سے آزادر ہے اور وہ چیزیں ان کی غلام بنی رہیں۔اس لئے کہ خدا کے تعلق اور محبت نے ان کو ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا تھا۔وہ انگلستان بھی پہنچے تو وہاں بھی آزاد مردوں کی طرح پہنچے۔حقیقت یہ ہے کہ نقال قومیں دراصل زندہ رہا ہی نہیں کرتیں۔ان کی زندگی کی حقیقت کوئی نہیں، یوں ہی دکھاوا ہے۔اور آزاد قو میں دنیا کی چیزوں اور اس کے ماحول سے بے نیاز ہو کر زندہ رہا کرتی ہیں۔پس وہ رعب، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہام میں بیان کیا تھا، وہ آپ کے اصحاب کو عطا ہوا تھا۔ان سے لوگ راہیں پکڑتے تھے، وہ لوگوں کی راہیں نہیں پکڑا کرتے تھے۔جس پر دنیا کا رعب آجائے ، اس کا نقشہ الٹ جاتا ہے۔چنانچہ یہ باتیں، جن کے متعلق پسماندہ قو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتیں کہ ہم یہ طرز اختیار کر سکتے ہیں لیکن جب وہ لوگ جن کا ان پر رعب ہے ، وہ طرزیں اختیار کرتے ہیں تو پسماندہ قومیں ان کے رنگ میں رنگین ہو جاتی ہیں۔مثلاً ایک زمانہ تھا، جب ہمارے معاشرہ میں ٹنڈ کروانا یعنی استرے سے اچھی طرح سرمنڈوا دینا، ایک بہت ہی بے ہودہ چیز سمجھا جاتا تھا۔اور جب قدامت پرست ماں باپ بعض دفعہ زبردستی اپنے بچوں کے سروں پر استرے پھر وادیا کرتے تھے تو بچے رویا کرتے تھے اور شرم کے مارے رومال باندھ کر پھرتے تھے۔اس لئے کہ ان کا دل کہتا تھا کہ ایک بے ہودہ چیز ہے۔لیکن جب آزاد قوموں میں سے بعض نے اپنے سر مونڈے اور ٹنڈ کروا 1 567