تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 566
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک قدروں کو لے کر ہم چل رہے ہیں، یہ اچھی اور بہتر قدریں ہیں اور دنیا کی قدروں سے بہت بالا ہیں تو اگر وہ یہ نہیں کر سکتے تو وہیں وہ بازی ہار دیتے ہیں۔پھر لاشے پھرتے ہیں اور خالی جسم نظر آتے ہیں۔آج نہیں تو کل دن بدن ان پر موت کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔اس لئے اس بات کی طرف میں بار بار توجہ دلاتا ہوں کہ آپ اپنے نفسوں کی فکر کریں، اپنی طرز فکر کی فکر کریں۔یہ ایک لمحہ آپ کی زندگی کے فیصلہ کو زندوں میں بھی داخل کر سکتا ہے اور غلط فیصلہ کے نتیجہ میں مردوں میں بھی داخل کر سکتا ہے۔آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم کس کی خاطر جنیں گے؟ کیا ہم اس بات کی خاطر جئیں گے کہ ہمارا خدا ہم سے راضی رہے؟ یا اس بات کی خاطر جئیں گے کہ جہاں ہم جائیں، وہاں کے لوگ ہم سے راضی رہیں؟ اس دوسری قسم کی سوچ کے لوگ تو پھر بہروپئے بن جاتے ہیں۔جہاں گئے ، وہیں کے ہو کر رہ گئے۔جس قوم میں داخل ہوئے ، ویسے بن گئے۔جب یہ لوگ واپس اپنے معاشرہ میں آتے ہیں تو رفتہ رفتہ نیک بھی نظر آنے لگ جاتے ہیں، ان کے رنگ بدلتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کہیں کے بھی نہیں ہوتے۔کیونکہ ان کے اندر ایک بنیادی کمزوری ہوتی ہے، ان کے اندر کوئی کردار نہیں ہوتا۔وہ ایسے ماحول میں جائیں گے، جہاں قدامت پرستی ہے تو قدامت پرست بھی بن جائیں گے۔کسی دوسرے ماحول میں جائیں تو ویسے بن جائیں گے۔اور یہ طرز زندگی جو بغیر کردار کے ہوتی ہے اور بغیر عظمت کے ہوتی ہے، اسلامی اصطلاح میں منافقت کہلاتی ہے۔لَا إلَى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلَى هَؤُلَاءِ نہ وہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ وہ ادھر کے رہتے ہیں۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا أَمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ دلا (بقرة:15) جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں یا ان کے معاشرہ میں چلے جاتے ہیں، جو ایمان لانے والے ہیں تو کہتے ہیں، دیکھو! ہم تو ایمان لانے والے ہیں۔وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ جب وہ اپنے شیاطین کی طرف جاتے ہیں، جو ان کے دلوں میں برے خیالات ڈالتے اور بد اعمالیوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو تمہارے رنگ میں رنگے 566