تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 554

خطاب فرمودہ 21 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم گیا۔جلسہ گاہ کے ارد گرد ہزارہا کی تعداد میں دشمن جھولیوں میں پتھر اور ڈنڈے سوئے لے کر انتظار میں کھڑے ہو گئے کہ جب یہ احمدی جلسہ سے واپس جائیں گے تو پھر جہاں جہاں داؤ لگے گا، ان کو خوب ماریں گے۔گویا اسلام کو اس طرح ڈنڈوں کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے اور ڈنڈوں کے ساتھ حق کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہی واقعہ جو پہلے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہوا ، اسی طرح یہاں ہوا۔دیکھئے شکل ملنی شروع ہو گئی۔جب یہ کہا کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا تو ایسے انتظام بھی ہوئے کہ واقعہ وہ شکلیں ملنی شروع ہو گئیں۔اس وقت بہت سے احمدی، جو لوگوں کے ہاتھ آئے ، ان کو بہت مارا گیا، گالیاں دی گئیں۔اس کے باوجود وہ سارے بہت مطمئن اور خدا سے خوش اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحبت یافتہ ایک خوش قسمت کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ہوا یہ کہ جب وہ جلسہ سے واپس آرہے تھے تو راستہ میں کچھ لوگوں نے ان کو پکڑ لیا، بہت مارا۔جس حد تک ذلیل کیا جا سکتا تھا، ذلیل کیا۔سر میں خاک ڈالی، کپڑے پھاڑ دیئے۔لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا، وہ مسکراتے رہے۔آخر تنگ آکر ایک شخص نے کہا: اس کو اور زیادہ ذلیل کرو، اس کے بغیر یہ درست نہیں ہوگا۔ڈھیٹ کا ڈھیٹ ہے، کچھ سنتاہی نہیں، اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔مارتے ہیں، تب مسکراتا ہے۔گالیاں دیتے ہیں، تب اس کو غصہ نہیں آتا۔یہ کیا بلا ہے؟ اس کوٹھیک کرنا چاہیے۔پاس گائے کا گو بر پڑا ہوا تھا۔انہوں نے وہ گو بر اٹھایا اور ان کے منہ میں ، آنکھوں میں ، ناک میں گو برمل دیا اور کہنے لگے: اب تمہیں پتہ لگا ہے کہ تم کیا چیز بن گئے ہو؟ ان کا نام برھان الدین تھا۔انہوں نے پنجابی میں نعرہ مار کر کہا: ”واہ او بر ہانیا! تیری کی شان ائے کہ اے برھان الدین تیری بھی کیا شان ہے۔اس پر ان لوگوں کے نے سمجھا کہ پاگل ہو گیا ہے۔ہم اس کے منہ پر گو برمل رہے ہیں، ناک میں، آنکھوں میں گو بر ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ واہ برھان الدین! تیری بھی کیا شان ہے۔کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ تو پاگل ہو گیا ہے۔کیا بات کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا: میں پاگل نہیں ہو گیا، تمہیں میرے دل کے حال کا پتہ نہیں۔ایک زمانہ تھا کہ میں اسلام کی تاریخ پڑھا کرتا تھا۔اس میں یہ واقعات پڑھتا تھا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہت سختیاں کی گئیں، آپ کو بہت دکھ دیئے گئے ، آپ کے ماننے والوں کو گلیوں گھسیٹا گیا، پتے ہوئے صحراؤں میں ریت پر لٹایا گیا، جب کہ وہاں کا درجہ حرارت اتنا 554