تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 555

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 21 ستمبر 1983ء بڑھ جاتا ہے کہ کوئی ننگے پاؤں کھڑا نہیں ہو سکتا تھا، وہاں زمین پر لٹا کر چھاتیوں پر پتھر رکھے گئے ، چلتی ہوئی بھٹیوں سے کوئلے نکال کر ان پر لٹایا گیا اور ان کے خون اور چھالوں سے کو ملے ٹھنڈے ہو گئے۔گلیوں میں کتوں کی طرح پاؤں میں زنجیریں باندھ کر گھسیٹا گیا۔وہ کہتے ہیں: جب میں یہ واقعات پڑھا کرتا تھا تو میرے دل سے یہ حسرت اٹھتی تھی کہ اے میرے خدا!! کاش میں بھی ہوتا تو میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیوانوں میں لکھا جاتا۔کاش! میں بھی اس زمانے میں ہوتا تو مجھے بھی خدا کے نام پر یہ تکلیفیں دی جاتی۔لیکن میرا کوئی بس نہیں چل رہا تھا۔فاصلے بہت ہیں۔کہاں مکہ مدینہ اور کہاں میں پنجاب کا ایک عام انسان ! کہاں تیرہ سو سال پہلے کے یہ ایمان افروز واقعات کہاں آج کی باتیں۔میں کیسے پاسکوں؟ تو آج جب تم لوگوں نے مجھ سے یہ سلوک کیا تو میں نے درود بھیجا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کے اس عاشق صادق اور غلام کامل مرزا غلام احمد پر۔اور میں نے کہا: واہ او بر ہانیا! تیری بھی کیا شان ہے۔خدا نے تیرے دل کی حسرت پر محبت اور رحم کی نظر ڈالی اور تیری دعاؤں کو قبول کر لیا۔مرزا غلام احمد قادیانی نے تجھے ان لوگوں سے ملا دیا ، جن سے ملنے کا تجھے کوئی چارہ نہیں تھا، کوئی بس نہیں تھا۔پس میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ جب خدا کی طرف سے بچے آتے ہیں تو وہ پچھلوں کو اگلوں سے ملا دیا کرتے ہیں۔اس میں نہ وقت کے فاصلے حائل ہوا کرتے ہیں، نہ کوئی دوسری رکاوٹیں پیدا ہوتیں ہیں۔آپ بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔آپ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی پیغام ہے کہ خدا کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، خدا کے بچے بندے بن جائیں، پھر آپ دیکھیں گے کہ خدا فاصلوں کا بھی مالک ہے اور وقت کا بھی مالک ہے۔پھر آپ کسی ہستی سے کسی جانب سے دور نہیں جائیں گے۔خدا چاہے تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارتیں آپ کو کروائے۔کبھی کشف میں کبھی خوابوں کے ذریعہ آپ کی تمناؤں کو اللہ ہر طرح سے پوری کر سکتا ہے۔اس لیے جتنی دوری زیادہ ہے، اتنی ہی اپنی ذات کی فکر کریں۔کوشش کریں کہ آپ خدا والے ہو جائیں ، اس کے بچے عبد بن جائیں۔اگر آپ خدا والے بن گئے تو سارے نجی پر آپ کا احسان ہوگا۔کیونکہ آج کے زمانہ میں خدا والے بہت کم ہیں۔ملک کے ملک ویران پڑے ہیں۔کروڑ با کروڑ کی آبادیاں ہیں لیکن روحانی لحاظ سے ویرانی کا عالم ہے۔کوئی خدا والا کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔دنیا والے بہت ہیں۔دنیا کی عزتیں ہیں، بدمعاشیوں کے اڈے ہیں، گناہوں کے انتظام ہیں لیکن اگر آپ ڈھونڈ نے نکلیں تو آپ کو خدا والا کوئی نہیں ملے گا۔555