تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 535

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ششم - خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء پھرے۔میں نے تو اپنے رب کو پالیا۔بلکہ معا اپنے بھائیوں کی طرف توجہ ہوئی ، فتند لی پھر ان کی طرف جھکے یہ بتانے کے لئے کہ میں نے کتنی عظیم الشان دولت پائی ہے، ہم بھی اس میں شریک ہو جاؤ۔اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ الضعھی میں بیان فرماتا ہے:۔وَوَجَدَك ضَا لَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنى اضحی : 08,09) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ خدا کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ضآلا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گمراہ۔ضآلا کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی چیز کی محبت اور تلاش میں اپنے وجود کو بھی کھوڈا لے۔یعنی دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جائے۔اور وہ جذبہ اس پر اس قدر غالب آجائے کہ اور کسی چیز کی اسے ہوش نہ رہے۔لیکن عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو نے ہمیں تلاش کیا، تو ہماری محبت میں سرگرداں تھا، جب ہم نے تیرا مقصد تجھے عطا کر دیا، ہم تجھے مل گئے، تجھے اپنی طرف ہدایت دے دی تو ہم نے دیکھا کہ تو تو بڑا عیال دار ہے، تو نے سوال کو پھیلا دیا ہے، سارے بنی نوع انسان کے لئے۔اور کہا: اے خدا! میں اکیلا تو نہیں ہوں، نہ میں اکیلے لے کر راضی ہوں گا، میں تو سب دنیا کا ہوں اور بہت بڑا عیال دار ہوں، ساری کائنات کے لئے مانگنے آیا ہوں۔پھر خدا نے آپ سے عجیب سلوک فرمایا۔خدا نے آپ کو کہا کہ اے محمد ! تو ، تو ایک بندہ ہے۔بندہ ہوکر تیرا دل اتنا وسیع ہے کہ اپنے سارے بھائیوں کو ، سارے زمانہ کے انسانوں کو اس نعمت میں شریک کرنا چاہتا ہے، جو میں نے تجھے عطا کی تو میں خالق اور مالک ہو کر تجھ سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں؟ فاغنی، پھر خدا نے ایسا غنی کر دیا کہ کسی دوسری تعلیم کا محتاج نہیں رہنے دیا، کسی دوسری نعمت کا محتاج نہیں رہنے دیا۔اور کہا کہ ہم تجھے کوثر عطا کرتے ہیں۔ایسے خزانے دیں گے، جو بنی نوع انسان میں قیامت تک بانٹتے چلے جاؤ گے تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہے کہ تم بھی دنیا کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نکالے گئے ہو، تم بھی بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلانے کے لئے نکالے گئے ہو۔لیکن پہلے خدا کے بنو گے تو پھر دنیا تمہاری ہوگی۔کیونکہ خدا کے بنے بغیر تم تہی دست کے تہی دست رہو گے۔دنیا یوں ہی تو کسی کی طرف توجہ نہیں کیا کرتی۔اب میں نے مثال دی تھی ، دنیوی قوموں نے ان لوگوں کو کچھ دیا ہے، ان کے پاس دولتیں ہیں، ان کے پاس مادی طاقتیں ہیں، اس کی خاطر دنیا ان کی طرف آئی۔تو خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے، اس مضمون کو۔آپ کو پتہ تھا کہ جب تک میرے پاس دولت نہیں ہوگی، میں کیسے دنیا کو بلاؤں گا ؟ وہ دولت اپنے رب سے حاصل 535