تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 536

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کی۔اور جب خدا نے آپ کو اتناغنی کر دیا، اتنا نی کردیا کہ اپنے زمانے کے انسان ہی نہیں بلکہ سارے زمانہ کے انسانوں کو دیتے چلے جائیں اور وہ دولت ختم نہ ہو تب پھر وہ دنیا کو بلانے کے لئے نکلے۔پس آپ کا مقابلہ بھی دنیا کی بہت بڑی بڑی قوموں کے ساتھ ہے۔اور وہ ساری قو میں کچھ نہ کچھ حرص اور کچھ نہ کچھ لالچ دے کر دنیا کو اپنی طرف بلا رہی ہیں۔اور وہ مادی دولتیں ہیں، جو وہ عطا کرتی ہیں۔اس کے مقابل پر صرف ایک ہی چیز ہے، جس میں آپ کو برتری حاصل ہو سکتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ آپ حقیقتا خدا کے ہو جائیں اور خدا سب کچھ آپ کا بنادے۔پھر دنیا کی کوئی قوم بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور یہ جو غنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے، اس کا آغا ز صرف مذہبی دولت سے ہوتا ہے۔خدا کو پالینا مقصود ہوتا ہے اور خدا کو پالینے والے بندے بڑی جرات اور طاقت کے ساتھ اور بڑی قوت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں، خدا ہمارے ساتھ ہے۔اس لئے جس کو دین چاہئے ، وہ بھی ادھر آئے اور جس کو دنیا چاہئے ، اس کو بھی ادھر آئے بغیر چارہ نہیں۔کیونکہ ہم خدا کے نمائندہ بن چکے ہیں۔لیکن اس اعلان کے باوجود کہ اب خدا بھی یہیں ملے گا اور خدا کی بنائی ہوئی طاقتیں بھی ، غرض ہر چیز یہیں حاصل ہوگی۔اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس رستے میں ایک آزمائش کا نظام مقرر فرما دیا۔تا کہ جو خدا کے فضلوں کو لینے والے ہوں، وہ تو داخل ہو سکیں اور جو حض دنیا کی لالچ میں آنا چاہیں ، ان کے لئے روک بن جائے۔چنانچہ شرط یہ رکھی کہ پہلے اللہ کا فضل حاصل کرو، دنیا بعد میں آئے گی۔اور اللہ کو پانے کی شرط یہ ہے کہ جو دنیا تمہیں حاصل ہے، وہ بھی خدا کی خاطر لٹا دو، پھر خدا ملے گا۔اس کے بغیر سودا نہیں ہو سکتا۔جب یہ اعلان ہورہا ہو کہ جو ہاتھ میں ہے، وہ دے دو۔پھر ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں بعد میں بہت کچھ دیا جائے گا۔تو صرف وہی آدمی داخل ہو سکتا ہے، جس کو کامل یقین ہو کہ وعدہ کرنے والا بھی موجود ہے اور عطا کرنے والا بھی موجود ہے۔ورنہ جس کو کسی غائب پر ایمان نہ ہو یا کسی ایسی ہستی پر ایمان نہ ہو، جو آنکھوں سے نظر نہیں آرہی، وہ اس کے خیالی وعدے پر اپنے ہاتھ کی دنیا کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ ایسی دنیا دار قوموں کے محاورے تو ان قوموں کے محاوروں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، جو خدا پر اور غیب کی چیزوں پر ایمان لانے والی ہوتی ہیں۔یہ لوگ تو یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ a bird in hand is better than two in a bush۔اور خدا والے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ 536 (التوبة: 111)