تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 534
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم میں سے ہر احمدی اللہ تعالٰی کا ہونے کی کوشش کرے۔کیونکہ جب تک وہ خدا کا نہیں ہوتا، اس کی خاطر جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے، دنیا کو اسلام کی طرف لانے کی اس میں استطاعت نہیں ہوگی۔یہ اتنا عظیم الشان الہام ہے اور اس کی اتنی گہرائی ہے اور ایسی عظیم الشان حکمت اور فوائد کی باتیں اس میں بیان کر دی گئی ہیں کہ انسان اس پر جتنا غور کرتا چلا جائے ، اتنا ہی زیادہ طبیعت لطف اٹھاتی چلی جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور روح جھکتی چلی جاتی ہے۔اس میں عمل سے نہیں روکا گیا، نہ اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ سب دنیا کو اپنی طرف کھینچ کر لاؤ بلکہ دنیا کوکھینچ کر لانا مقصد رکھا گیا ہے، صرف طریق کار بتایا گیا ہے کہ اگر تم دنیا کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہو تو اس کے لئے پہلے خدا کی طرف جاؤ۔اس کے بغیر تمہیں دنیا نہیں ملے گی۔یعنی اس الہام میں کسی ایسی صوفیانہ تعلیم کا ذکر نہیں ہے کہ دنیا سے قطع تعلق کر کے انسان صرف خدا کا ہو جائے اور بے عملی کی زندگی میں مبتلا ہو جائے اور سمجھے کہ اسی طرح میں نے سب کچھ حاصل کر لیا۔بلکہ مومن کے اس مقصد کو تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ ایک مجاہد کی زندگی اختیار کرتا ہے اور بالآخر اس نے ساری دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے۔اور یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔اس الہام میں صرف طریق کار بتایا گیا ہے کہ خدا کی طرف گئے بغیر ، خدا کو اپنا بنائے بغیر اگر تم دنیا کے پیچھے بھاگتے رہو گے تو کبھی بھی دنیا تمہاری نہیں ہوگی۔ہاں یہ خطرہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ خدا کے نہ رہو بلکہ دنیا کے بن کر رہ جاؤ۔پس اس الہام میں در اصل قرآن کریم کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان کردار بیان فرمایا گیا اور آپ کا طریق تبلیغ واضح کیا گیا ہے۔یعنی آپ جو مجاہد بنے اور تمام دنیا کو خدا کی طرف لانے کے لئے آپ نے ایک مہم شروع کی تو آپ نے پہلے کیا کیا تھا؟ وہ آیت یہ ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنى & (النجم :10 ,09) اور اسی مضمون کو خدا تعالیٰ نے ایک اور جگہ بھی کھول کر بیان کیا ہے۔لیکن پہلے میں اس حصہ کے متعلق بیان کر دینا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اپنے رب کے قریب ہوئے اور قریب ہو کر وہاں ٹھہرے نہیں رہے۔دو باتیں ہیں ، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور صفات حسنہ کی یہاں نمایاں طور پر بیان ہوئی ہیں۔اول خدا سے پیار کا راستہ پہلے اختیار کیا ہے اور خدا کے قریب ہوئے بغیر دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔پھر جب خدا کو پالیا تو خود غرضی نہیں دکھائی، یہ نہیں سوچا کہ میرا مقصد پورا ہو گیا، اب دنیا جائے جہنم میں۔جو بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے، ہوتا 534