تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 510

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے تو انسانوں کی آبروئیں اور طاقتیں ان کی دوستیوں کے ساتھ بدلتی ہیں۔ان کے تعلقات کے دائرے جتنے وسیع ہوں، اتنی ان کی وسعتیں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔تو لازماً اس سمت میں کوئی حل ہے، جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔معا دیکھا کہ اگلی آیت یہی سکھا رہی ہے۔اس کے معا بعد دعا کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا اے خدا! ہم تو بالکل بے کار اور ناکارہ لوگ ہیں، ہماری وسعتوں میں تو نے اپنا تعلق داخل کر دیا، تبھی ایسے عظیم الشان کام ہمارے سپر د کر رہا ہے، جو ناممکن ہیں، انسان کی بساط میں نہیں ہے کہ ان کو پورا کر سکے۔تو جب تک ہمارا دوست ہے، ہماری وسعت ہے۔جب تو نے تعلق توڑ دیا تو ہماری کوئی بھی وسعت نہیں۔اور جب خدا خود ذمہ داریاں ڈالتا ہے تو اس وجود، قوم کی وسعت میں جس پر ذمہ داریاں ڈالتا ہے، پنے تعلق کو بھی شامل کر لیتا ہے۔ورنہ تو ناممکن ہے کہ وہ کام کیا جاسکے۔اس پہلو سے معا بعد آنے والی دعا نے سکھا دیا کہ دراصل ہماری وسعتیں ہمارے خدا میں ہیں۔ہماری تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہمارا خدا ہے۔اور جتنا زیادہ گہرا تعلق ہم اپنے رب سے کریں گے، ہماری وسعتیں پھیلتی چلی جائیں گی اور چونکہ اس کی طاقتیں لامتناہی ہیں، اس لئے بلاشبہ ہماری وسعتیں بھی لامتناہی ہیں۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ اپنے تعلق کو کس حد تک بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اگر خدا کی ذات میں اپنے وجود کو مدغم کر دیں، اگر اپنا کچھ بھی نہ رہنے دیں، نہ اپنی تمنائیں اپنی رہیں ، نہ اپنی خواہشات، نہ اپنی محبت اور نہ نفرتیں کچھ بھی اپنا نہ رہے تو پھر ہماری وسعتیں، ہمارے خدا کی وسعتیں بن جائیں گی۔اور اس کے آگے کوئی بھی چیز انہونی نہیں اور کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے۔وہ جو کن فیکون کا مالک خدا ہے، اس سے تعلق کے بعد انسان کیسے وہم کر سکتا ہے کہ میری حیثیت چھوٹی ہے اور میری وسعتیں محدود ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے معا بعد دعا سکھا کر ( اور پھر دعا میں ان تمام باریک پہلوؤں کو روشن کر دیا، جو اس مضمون سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔) حوصلہ دے دیا ہمیں، سبق بھی دیا، وہ راستہ دکھا دیا، جس راستے پر چل کر ہماری طاقتیں پھیلتی چلی جائیں گی اور وسیع تر ہوتی چلی جائیں گی۔چنانچہ فرمایا :۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا 510