تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 511
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء اے خدا! انسان طاقتیں ضائع بھی کر دیتا ہے۔جو کچھ حاصل ہے، اس سے بھی تو پور استفادہ نہیں کر سکتا۔اور وسعتوں میں سے وہ حصہ منفی ہوتا چلا جاتا ہے۔اور وہ دو طریق پر ہے، بعض دفعہ بھول چوک کے ذریعہ، بعض دفعہ خطاؤں کے ذریعہ تو ہماری پہلی درخواست تو یہ ہے کہ ہمیں یہ توفیق عطا فرما کہ جو ہماری وسعتیں ہیں، ہم ان سے تو پورا فائدہ اٹھائیں۔خطائیں کی ہیں تو معاف فرما دے۔خطاؤں کی جو سزائیں مقرر ہیں یا خطاؤں کے جو طبعی نتائج تو نے مقرر فرمائے ہوئے ہیں، ان سے ہمیں نجات بخش اور ایسی توفیق عطا فرما کہ آئندہ خطائیں نہ کریں۔اگر خطائیں ہو بھی جائیں تو کم سے کم ہوں اور اسی طرح ہمارے بھول چوک کے مضمون میں بھی تو داخل ہو جا اور بھولی ہوئی چیزوں کے بدنتائج سے محفوظ فرماتا چلا جا۔پھر فرمایا:۔رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا یہ کہنے کے بعد ہماری توجہ گزشتہ قوموں کی طرف مبذول کروادی۔فرمایا: یہ پہلی دفعہ تو واقعہ نہیں ہوا کہ خدا نے کسی قوم کے سپر دایک ذمہ داری کی ہے اور پہلی دفعہ یہ واقعہ نہیں ہوا کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ تم اس ذمہ داری کو ادا کرو گے۔انسان کی ماضی پر نگاہ پڑتی ہے تو بہت سی قومیں نظر آتی ہیں، جنہوں نے ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کیا یا ادا کرنے کے بعد بہت جلد بھلا دیا۔اور خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں دی تھیں، ان کو لعنتوں میں تبدیل کر دیا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماضی کے انسان سے بھی سیکھو۔تمہاری کچھ وسعتیں ایسی ہیں ، جو ماضی میں بھی پھیلی پڑی ہیں۔کچھ کمزوریاں تم نے پرانی قوموں سے ورثہ میں پائی ہیں۔کچھ بد عادات ایسی ہیں، جو پہلے انسان میں پیدا ہوتی رہی ہیں، اس طرف بھی توجہ کرو۔صرف اپنی کمزوریوں سے بخشش کی یا نجات کی دعائیں نہ کرو، سابقہ قوموں کی غلطیوں سے بھی بخشش اور نجات کی دعا ئیں کرو۔یہ ابھی تک منفی مضمون چل رہا ہے۔فرمایا کہ دیکھو! پہلے ایسی تو میں تھیں، جن کے بداثرات ورثہ میں چلے جاتے ہیں۔ان بداثرات سے بچنے کی کوشش کرو، ان غلطیوں سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرو اور یہ کام بھی دعا کے بغیر نہیں ہوسکتا۔فرمایا: دعا کرو:۔رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ اب اس مضمون میں داخل ہونے کے بعد بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے۔ابھی تو خدا تعالیٰ فرمارہا تھا کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا خدا کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ ڈالتا ہی نہیں۔اور اب کہ رہا ہے، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ 511