تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 509

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک نیکی پر قائم ہو کر پھر اسے چھوڑنے کا جو رجحان قوموں میں ملاتا ہے، تن آسانی کارجحان ملتا ہے، یہ بھی ایک بڑی خطرناک چیز ہے۔پس جہاں دائرے پھیلتے جاتے ہیں، وہاں اندرونی تربیت کے معاملات بھی زیادہ سنگین نوعیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔پھر تیزی کے ساتھ اگر آپ پھیلنا بھی شروع کر دیں تو ان کی تربیت کے اتنے خطرناک مسائل سامنے آئیں گے کہ اگر ہمارے اندر ان نئے آنے والوں کی تربیت کی پوری اہلیت نہ ہوئی تو جس تیزی کے ساتھ وہ آئیں گے، اس تیزی کے ساتھ احمدیت کو بگاڑنے لگ جائیں گے، اسی تیزی کے ساتھ دین کو نقصان پہنچانے لگ جائیں گے۔پس ان پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ قرآن کریم سے انسان ہدایت نہیں پا سکتا، جب تک تقویٰ کے ساتھ ہدایت کی تلاش نہ کرے۔اور تقویٰ یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بات سمجھ آئے یا نہ آئے تم کہہ دو کہ ہاں سمجھ آگئی۔تقویٰ یہ ہے کہ جس بات کی سمجھ نہیں آئی، اس حد تک تسلیم کرے کہ ہاں ہمیں سمجھ نہیں آئی۔میرے نفس نے بڑی دیانت داری کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں تک احمدیت کی وسعت کا تعلق ہے، ہر فرد اور جماعت کی اندرونی طاقتوں کے مجموعہ کا نام ہی جماعت کی وسعت ہے۔اس وسعت پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں، جو ذمہ داریاں تمام دنیا میں اسلام کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔اسلام کی تبلیغ کے لئے ، اس کے نفاذ کے لئے اور اسے زندگی کا ایک ناقابل تقسیم جز و بنادینا، یہاں تک کہ وہ نسلاً بعد نسل فطرت ثانیہ کے طور پر لوگوں کی رگوں میں جاری ہو جائے۔یہ ہے اسلام کی تبلیغ کا بنیادی تقاضا ، جسے ہم نے پورا کرنا ہے اور ہم اس کے اہل نہیں ہیں۔پھر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ توجہ مبذول کراتا ہے اور فرماتا ہے:۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا تمہارے اندازوں میں کوئی غلطی ہوگی۔ہوسکتا ہے، بعض وسعتیں تم نے دیکھی نہ ہوں، پھر نظر دوڑاؤ، پھر تلاش کرو، عین ممکن ہے کہ کچھ ایسی وسعتیں ہوں، جن پر تم نے نظر نہ ڈالی ہو۔اس پہلو سے جب میں نے دوبارہ غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ انسان کی وسعتیں صرف اس کی ذات تک یا اس کی جماعت تک محدود نہیں ہوا کرتیں بلکہ اس کے تعلقات اور اس کی دوستیاں بھی تو وسعتوں میں شامل ہوا کرتی ہیں۔ایک چھوٹا سا ملک اگر ایک بڑے ملک کا دوست ہو تو کیسی جرات سے آنکھ اٹھا کر بڑی بڑی طاقتوں کو چیلنج کرتا ہے۔کہتا ہے تم مجھے نہیں مٹا سکتے ، اس لئے کہ فلاں ملک میری پشت پناہی کر رہا ہے۔غالب نے بھی تو کہا ہے کہ 509