تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 508
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم رہا ہے۔کھیل کو د اور لہو و لعب میں اپنی جائز ضرورت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے۔کچھ تو انسان کا تفریح کا حق ہے، وہ اس کی بناوٹ میں داخل ہے لیکن کچھ اس سے زائد ہوتا ہے اور جب تو میں تفریح کے حق سے بہت زیادہ وقت خرچ کرنے لگ جائیں تو وہ اپنی قوتوں کو ضائع کر رہی ہوتی ہیں۔پھر بہت سی ایسی زبانیں ہیں، جو دین کی خاطر گھر بیٹھے سیکھ سکتے ہیں۔بہت سا علم ہے دین کا ، جو آپ پڑھا سکتے ہیں۔اس کی طرف پوری توجہ نہیں۔عبادت ہے، اس کی طرف پوری توجہ نہیں۔جتنا کہ حق ہے، ویسی ہونی چاہئے۔غرضیکہ آپ اپنی نظر کو پھیلاتے چلے جائیں تو ہر انسان کے اندر آپ کو ایسے بے شمار گوشے نظر آئیں گے، جہاں اللہ تعالیٰ نے وسعتیں تو عطا فرمائی ہیں لیکن ان وسعتوں سے ہم پورا فائدہ نہیں اٹھا ر ہے۔اس لئے جب جماعت کی ایک اجتماعی شکل بنتی ہے تو ایسے بکثرت احمدی جماعت میں شامل ہیں، جن کی وسعتوں میں سے ایک تھوڑا سا حصہ جماعت کو ملا ہوا ہے۔اور پھر جماعت کی جو اجتماعی شکل بنتی ہے، اس میں تمام ذمہ دار کارکنان ، جو جماعت میں شامل ہیں یا جن پر بوجھ ڈالے جاتے ہیں، وہ آگے پھر اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرتے اور اپنی وسعتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ایسے مربیان بھی ہیں، بیرونی ممالک کے مبلغین بھی ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے بھی ہیں، اگر وہ اپنے آپ کو ٹولنا شروع کریں تو محسوس کریں گے کہ ابھی وہ بہت کچھ اور بھی کر سکتے تھے۔لیکن نہیں کر سکے یا نہیں کیا۔تدبر کی باتیں دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو تدبر کا ایک ملکہ عطا فرمایا ہے، فکر کا ملکہ عطا فرمایا ہے اور مسائل کو جانچنا اور ان میں تدبر کرنا اور فکر کے نتیجہ میں نئی نئی راہیں تلاش کرنا، یہ انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔لیکن اس پہلو سے بھی ہر وقت ایک احمدی کا جماعتی مسائل میں منہمک ہونا ، یہ ہمیں نظر نہیں آتا۔بسا اوقات اکثر احمدی اپنے دنیاوی اور گھریلو مسائل میں تو ا لجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن بہت کم ہیں، جو دن رات اس فکر میں غلطاں ہوں کہ دین کا کیا بنے گا؟ ہم اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کریں گے؟ کاموں کو آسان کرنے کے کیا ذرائع ہیں؟ ہم کس طرح تھوڑی کوشش کے ساتھ زیادہ حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ساری Resources Untapped پڑی ہیں۔لیکن میں نے یہ سب کچھ سوچا اور اندازہ لگایا ، اس کے باوجود میرے دل کا دیانت دارانہ فیصلہ یہ تھا کہ اگر سارے احمدی اپنی ساری طاقتیں بھی جھونک دیں ، تب بھی یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔جہاں ہمارے دائرے پھیل رہے ہیں، وہاں اندرونی ذمہ داریاں بھی مزید پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔اگلی نسلوں کی تربیت کے مسائل ہیں، ان میں پیغام کو زندہ رکھنے کا سوال ہے۔ایک 508