تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 495
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 1983 ء جاگزیں کر دیتے ہیں کہ غیر مسلم کا قتل عام تمہیں غازی اور شہید بنادے گا اور بغیر کسی وجہ کے غیر مسلم کا قتل تمہارے لئے جنت کی ضمانت ہے۔یہ لوگ اس سے پہلے بھی کئی قسم کے بھیانک جرم کر چکے ہیں اور بڑے لمبے عرصہ تک تلاش کے باوجود اور کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود یہ پکڑے نہیں جا سکے۔چنانچہ دو، تین سال پہلے کی بات ہے، سان فرانسسکو میں اس قسم کے بھیانک قتلوں کی واردات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔عموماً نو جوان جوڑوں کو اچانک ظالمانہ طور پر قتل کر کے پھینک دیا جاتا تھا اور ان کے اس طرح قتل کے پیچھے کوئی ایسا محرک نظر نہیں آتا تھا، جس کے ذریعہ پولیس قاتلوں تک پہنچ سکے۔چنانچہ ایسے چو میں قتل ہوئے۔سارے امریکہ میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی۔یہ بہت ہی بھیانک جرائم تھے۔ایک ہی شہر میں یکے بعد دیگرے چو میں قتل ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔امریکہ کی تمام Investigation Agencies نے بہت زور مارا لیکن یہ لوگ نہیں پکڑے گئے۔بالآخر کسی اور جرم میں ایک شخص اتفاقاً پکڑا گیا۔اس سے جب تفتیش آگے بڑھی تو پتہ لگا کہ یہ وہی گروہ ہے، جولوگوں کو قتل کیا کرتا تھا۔ان سے کچھ ایسا لٹریچر بھی دستیاب ہوا اور کچھ انہوں نے خود بتا بھی دیا کہ ہمیں جو اسلام سکھایا گیا ہے، اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہر غیر مسلم کو قتل کر دو۔جتنے زیادہ قتل کرو گے، اتنے زیادہ ثواب کے مستحق ٹھہرو گے۔پس وہاں بیچاری ایسی ہی کئی تنظیمیں ہیں، جن کو اسلام کے ساتھ اس طرح متعارف کرایا جارہا ہو ہے۔وہ معصوم لوگ ہیں، ان کا اتنا قصور نہیں ، جتنا ان لوگوں کا ہے، جو ان کو براہ راست یہ تعلیم دیتے ہیں اور ان کے سامنے اسلام کی یہ تصویر بیچ رہے ہیں۔اور یہ معصومیت کے ساتھ ان کے قابو آ جاتے ہیں۔اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو پیشہ ور مجرم ہیں، ان کو پیسے دیئے جاتے ہیں کہ یہ جرم کرو۔چنانچہ جب یہ معاملہ پکڑا گیا اور پکڑا بھی اس طرح گیا کہ مرنے والوں میں سے ایک کی جیب سے ایک کارڈ صحیح سلامت نکل آیا اور اس کارڈ پر پولیس نے تحقیق شروع کی۔اب اس میں ایک اور مجزانہ تائید کا پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں امریکہ میں قاتلوں کو پھانسی نہیں دی جاتی۔قاتل پکڑے بھی جائیں تو ان کو موت کی سزا نہیں دی جاتی۔اس وجہ سے وہ اور بھی زیادہ دلیر ہو جاتے ہیں۔اور جہاں آر گنائزڈ کرائم Organized Crime ہوں، وہاں شہادت پر بڑا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔اور پھر جیلوں کو توڑ کر بھی قاتلوں کو رہا کروا لیا جاتا ہے۔پس ایک احمدی معصوم کا قاتل بالکل صاف ہاتھ سے نکل کر بچ جاتا۔لیکن خدا کی تقدیر نے اس کو ایک قدم بھاگنے نہیں دیا اور اسی ہم سے وہ دونوں ہلاک ہو گئے ، جس ہم سے وہ مسجد کو اڑانے کے لئے آئے تھے۔495