تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 496

خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پولیس نے جب مزید تحقیق کی تو بعض بڑے ہی تکلیف دہ اور قابل افسوس اور قابل شرم پہلو سامنے آئے ہیں۔چنانچہ پولیس کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں ، جن کو ایک بدقسمت ملک کے مولویوں نے اپنے خرچ پر بلوایا اور وہاں ان کو اس بات کی تربیت دی کہ احمدی انتہائی قابل نفرت چیز ہیں، ان کا قتل سب سے عظیم انعام تمہیں عطا کرتا ہے۔اور پھر دنیا میں پیسوں کا لالچ دیا اور عقلی میں جنت کا۔چنانچہ اس طرح تیار کر کے ان کو بھجوایا گیا۔پس یہ دونوں کوئی اتفاقی جوش میں آنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ ایک گہری سازش کے نتیجہ میں تیار کئے ہوئے، دو مجاہدین تھے۔چونکہ معین وقت پر یہ کیس پکڑا گیا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے توقع ہے کہ مجرموں کا یہ سلسلے کا سلسلہ بنگا کر دیا جائے گا۔بہر حال جو بھی واقعہ ہوا ہے، اس سے اگر کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ خیال ہے کہ احمدی ڈر جائے گا یا اس کے نتیجہ میں تبلیغ سے باز آجائے گا تو یہ ان کا بڑا ہی احمقانہ خیال ہے۔احمدی تو ڈرنے کی خاطر پیدا ہی نہیں کیا گیا۔احمدی کے دل اور اس کے حوصلے سے ایسے لوگ واقف ہی نہیں ہیں۔احمدی تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور سپاہی ہیں۔لوگوں کی نگاہیں ہماری شان سے نا واقف ہیں، ان کو علم نہیں کہ ہم کون لوگ ہیں؟ ہم یہ جانتے ہیں کہ قدم قدم پر اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہے۔اس لئے اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ڈیٹرائٹ امریکہ یاد نیا کے کسی گوشہ میں اس قسم کی ظالمانہ حرکتوں کے نتیجہ میں احمدی تبلیغ سے باز آجائے گا۔وہ تو بہر حال دعوت الی اللہ دے گا اور دیتا چلا جائے گا۔اور ایک سے سواور سو سے ہزار اور ہزار سے لاکھوں داعی الی اللہ پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔اس لئے کسی خوف اور خطرہ کا ہرگز مقام نہیں ہے۔شہادتیں تو دعوت الی اللہ کا کام کرنے والی قوموں کے مقدر میں ہوتی ہیں۔اور یہ شہادتیں انعام کے طور پر مقدر ہوتی ہیں، سزا کے طور پر مقدر نہیں ہوا کرتیں۔اس لئے میں ان لوگوں کو ، جو اس صدمہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ، یعنی ڈیٹرائٹ کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اے ڈیٹرائٹ اور امریکہ کے دوسرے شہروں میں بسنے والے احمد یو! اور اسے مشرق و مغرب میں آبا د اسلام کے جاں شارو!! اس عارضی غم سے مضمحل نہیں ہونا کہ یہ ان گنت خوشیوں کا پیش خیمہ بننے والا ہے۔اس شہید کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے۔اور اس راستہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹو ، جس پر چلتے ہوئے وہ مرد صادق بہت آگے بڑھ گیا۔تمہارے قدم نہ ڈگمگائیں تمہارے ارادے متزلزل نہ ہوں۔دیکھو ! تم نے خوب سوچ سمجھ کر اور کامل معرفت اور یقین کے ساتھ اپنے لئے راستی کی وہ راہ اختیار کی ہے، جس پر صالحیت کی منزل کے بعد ایک شہادت کی منزل بھی آتی ہے۔اسے خوف و ہراس کی 496