تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 494

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1983ء رہتے تھے۔اور اپنے اخلاص اور دینی کاموں میں پیش روی کے نتیجہ میں انہیں قائد علاقہ امریکہ مقرر کیا گیا تھا۔اور پھر وہ جماعت ہائے امریکہ کے نیشنل سیکرٹری بھی رہے اور شہادت کے وقت اسی عہدہ پر فائز تھے۔ان کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی تبلیغ کا موقع عطا فرمائے اور وہ اس سے مستفید نہ ہوں۔چنانچہ آج سے تین روز قبل بلیک امریکنز میں سے ایک بدقسمت شخص ان کے گھر آیا اور تبلیغ کے بہانے سے ان سے کچھ دیر گفتگو کی۔اس سے قبل بھی وہ اس وسیلہ سے آپ کا تھا اور ان کی مہمان نوازی سے بھی فیض یاب ہو چکا تھا۔چنانچہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ واقعہ اپنی دلچسپی میں مخلص ہے، ان کو پھر گفتگو کا موقع دیا۔جب وہ اسے گھر کے باہر تک چھوڑنے کے لئے جارہے تھے اور چھوڑ کر پلٹے ہیں تو اس نے فائر کر کے ان کو وہیں شہید کر دیا۔اس رات دو اور واقعات بھی ہوئے۔جس سے یہ پتہ چلتا تھا کہ یہ واقعات ایک بڑی گہری سازش کے نتیجہ میں رونما ہوئے ہیں۔ایک واقعہ تو یہ کہ ہمارے دوست لیق بٹ صاحب، جو پہلے وہاں کی مقامی جماعت کے صدر تھے، اب بھی شاید ہوں، ان کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ محفوظ رہے۔اور پھر اسی رات جماعت احمدیہ کے مشن ہاؤس کو بم سے اڑا دیا گیا۔اس مشن ہاؤس کے متعلق صبح کے وقت جو پہلی خبر مجھے پہنچی، اس میں تشویش کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ دولاشیں وہاں سے دستیاب ہوئیں۔فوری طور پر تحقیق کی گئی تو جلد ہی یہ تسلی ہوگئی کہ کسی احمدی کی لاش نہیں۔اور امریکہ کی جماعت میں کسی احمدی کے لاپتہ ہونے کا علم نہیں ہو سکا۔لیکن بعد میں جب پولیس نے تحقیق کی تو اس واقعہ میں ایک عظیم الشان نشان نظر آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حیرت انگیز تائیدی معجزہ ظاہر ہوا۔ثابت یہ ہوا کہ وہی قاتل، جو مظفر احمد کو شہید کر کے وہاں سے الگ ہوا، اس کا ایک ساتھی بھی تھا اور یہ دونوں لیق بٹ صاحب کے مکان پر حملہ آور ہوئے اور وہاں سے یہ دونوں مسجد کو بم سے اڑانے کے نیت سے مسجد تک پہنچے لیکن اسی بم سے دونوں خود بھی ہلاک ہو گئے۔امریکہ میں یہ واقعہ ایک بہت ہی بڑی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ جن لوگوں کو امریکہ کے حالات کا علم ہو، وہ جانتے ہیں کہ وہاں اگر اس قسم کا قاتل ہاتھ سے نکل جائے تو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔بعض تنظیمیں ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں اور پھر یہ معاملہ اسی طرح الجھے کا الجھا رہ جاتا ہے۔اور خصوصا ایک کمزور اور رہتی اور معصوم جماعت، جس کا ملک میں کوئی بڑا رسوخ نہ ہو، اس کی خاطر تو کوئی بھی جدوجہد نہیں کرسکتا۔پولیس کی تحقیق کے مطابق بلیک مسلم آرگنائزیشن اس جرم کی ذمہ دار ہے۔یہ وہ لوگ ہیں، جن کو اسلام کے نام پر بعض غیر ممالک ایسی غلط اور مکروہ تعلیمات دیتے ہیں اور ان کے دل میں کچھ ایسا یقین 494