تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 33
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطابه فرمودہ 10 ستمبر 1982ء گزرنے کے بعد آج بھی اسی طرح تازہ اور شاداب اور زندہ تابندہ ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ موقع پر موجود سوالاکھ پرستاران تو حید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔أَيُّهَا النَّاسُ الّا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ۔وَإِنَّ ابَاءَ كُمُ وَاحِدٌ۔أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِي عَلَى أَعْجَمِيٌّ وَلَالَاعْجَمِيٌّ عَلى عَرَبِيٌّ۔وَلَا لَا حَمَرَ عَلَى أَسْوَدَ۔وَلَالَاَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ۔اَلا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَاثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔اَلاَلَا تَظْلِمُوا۔الا لا تَظْلِمُوا الاَلَا تَظْلِمُوا۔دِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ۔أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوع فَاتَّقُوا اللهَ فِى النِّسَاءِ۔إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَاءِ كُمْ حَقًّا۔وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقًّا۔اَرِفَّائِكُمْ۔اَرِقَائِكُمْ۔أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكُسُوهُمْ مِمَّا تَلْبِسُونَ إِنَّ دِمَانَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ إِلَى إِنَّ تَلْقُوا رَبَّكُمْ۔یعنی اے انسانو اسن لو کہ تم سب کا خدا، ایک خدا ہے۔اور تم سب کا جد امجد بھی ایک ہی ہے۔کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں اور نہ ہی عجمی کو عربی پر برتری حاصل ہے۔نہ ہی سفید کوسیاہ پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ ہی سیاہ کو سفید پر سن لو کہ انسانی جان کی بے حرمتی یا مال کی بے حرمتی یا ایک انسان کا دوسرے پر جو ترجیحی سلوک جاہلیت میں قائم تھا، میں آج قیامت کے دن تک کے لئے اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔خبردار! کوئی حق تلفی نہ کروں کوئی حق تلفی نہ کرو، کوئی حق تلفی نہ کرو۔جاہلیت کے زمانہ کے خون درخون کے انتقام کا سلسلہ موقوف کیا جاتا ہے۔جاہلیت کے تمام سود ( جو حقوق انسانی کے استحصال کا ذریعہ تھے۔( موقوف کئے جاتے ہیں۔عورتوں کے حقوق کے متعلق اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔جس طرح تمہارے حقوق عورتوں پر ہیں، بالکل اسی طرح عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔قیدیوں کا خیال رکھو، قیدیوں کا خیال رکھو۔جو خود کھاتے ہو ، وہی ان کو کھلاؤ۔اور جیسا لباس خود پہنتے ہو ، ویسا ہی ان کو پہناؤ۔اور یاد رکھو کہ تمہاری جان اور تمہارے مال اور تمہاری عزت کی حرمت تم پر واجب کر دی گئی ہے۔اس روز تک کہ تم اپنے رب سے ملو۔یہ وہی پیغام ہے، جس کی حفاظت کے لئے اور جس کی روح کو از سر نو زندہ کرنے کے لئے غلامان محمد میں سے خدا تعالیٰ نے ایک عظیم غلام کو اس زمانہ کا امام بنا کر مبعوث فرمایا۔تا کہ وہی نیک باتیں ہمیں یاد کر وائے ، جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں ہیں۔اور اپنے پاک نمونہ سے ویسی ہی ایک 33