تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 32
خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وہ اعلیٰ اقدار کیا ہیں؟ یہی کہ تیرے گھر کے دروازے تیری تمام مخلوق پر ہمیشہ وار ہیں گے اور بلا تمیز رنگ ونسل تمام وہ لوگ ، جو تجھے واحد و یگانہ جانتے ہوئے تیری چوکھٹ پر جھکنے کے لئے آتے ہیں، تیرے گھر کی رسائی پائیں۔اور کوئی نہیں، جو انہیں اس میں داخل ہونے اور اس میں عبادت سے روک سکے۔ہاں وہ فتنہ پرداز اور شریر لوگ، جو عبادت کی بجائے فساد کی نیت سے تیرے پاک گھر میں داخل ہونے کی کوشش کریں، ہم ان کا معاملہ تجھ پر ہی چھوڑتے ہیں اور تجھی سے التجاء کرتے ہیں اور تجھی پر توکل رکھتے ہیں کہ ان کے ناپاک قدم تیرے پاک گھر کو گندا کرنے کی توفیق نہ پائیں۔اے خدا! ہمیں توفیق بخش کہ اس عظیم پیغام کو ہمیشہ یادرکھیں، جو ہر اس مسجد کے ساتھ وابستہ ہے، جو خالصہ تیرے ہی ذکر کو بلند کرنے کے لئے بنائی جاتی ہے۔وہ پیغام کیا ہے؟ وہ صلح اور امن کا پیغام ہے، انسان اور انسان کے درمیان عدل اور مساوات اور اخوت اور محبت کا پیغام ہے۔وہ پیغام یہ ہے کہ جس طرح آسمان پر تمہارا خدا ایک ہے، اے ایک خدا کے پوجنے والو! تم بھی زمین پر ایک ہو جاؤ اور ہر نفرت اور ہر بغض اور ہر کینہ کو اپنے دلوں سے نکال دو۔اور ہر اس بات کو ترک کر دو، جو خدائے واحد ویگانہ کے بندوں کے درمیان تفریق کرتی ہے اور انسان کو انسان سے جدا کرنے والی بات ہے۔یہ مسجد پانچ وقت بلند اذانوں کے ذریعے تمہیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے اور تم سب اسی ایک خدا کے بندے ہو۔ہر بڑائی اسی کے لئے ہے اور وہی ایک ذات ہے، جو تم سب کی عبادت کے لائق ہے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ تم بھی ایک ہو جاؤ تو اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! تم اس واحد و یگانہ خدا سے اپنا تعلق جوڑ لو، جو تم سب میں مشترک اور تم سب کا ایک ہی خدا ہے۔ہر مسجد ، جو خدائے بزرگ و برتر کی تسبیح وتحمید اور اس کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہے ، ہمیں اس عظیم خطبہ کی یاد دلاتی ہے، جو خدا کے بندے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل آخری حج کے موقع پر دیا۔یہ وہی تاریخی خطبہ ہے، جو ہمیں توحید کے فلسفہ سے آگاہ کرتا ہے۔اور خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کے تقاضے خوب کھول کھول بیان کرتا ہے۔یہ وہ خطبہ ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ خالق کی عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا نہ کئے جائیں۔یہ وہ خطبہ ہے، جو تمام وہ حقوق گنواتا ہے، جو اس کے ہر ایک بندے کے اس کے دوسرے بندوں پر ہیں۔اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ اگر تم مخلوق کے حقوق ادا نہیں کرو گے تو صرف مخلوق ہی سے نہیں بلکہ خالق سے بھی کاٹے جاؤ گے۔یہ وہ زندہ جاوید خطبہ ہے، جو وقت کی دست برد سے آزاد ہے۔اور چودہ سو برس 32