تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 31

تحریک جدید- ایک الہی تحریک خطاب فرموده 10 ستمبر 1982 ء ہم اہل پین کے لئے محبت کے سوا اور کوئی پیغام نہیں لائے خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1982ء برموقع افتتاح مسجد بشارت سپین حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔" آج میں اللہ کے نام کے ساتھ ، جو رحمن اور رحیم ہے، اس مسجد کا افتتاح کرتا ہوں۔اسی کی حمد سے میرا دل لہریز ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، جو رحمن ہے، جو رحیم ہے، جو زمین و آسمان کا اور ہر اس ھی کا، جو ان کے درمیان ہے، مالک ہے۔اور ہر عارضی ملکیت بھی بالآخر اسی کی طرف لوٹائی جائے گی۔اور نہ کوئی عارضی مالک رہے گا اور نہ کوئی مستقل۔مگر وہی ایک، جو واحد و یگانہ ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔خالصہ اس کی عبادت کی خاطر آج ہم اس مسجد کا افتتاح کر رہے ہیں۔اور اسی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں عبادت کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔کیونکہ اس کی ہدایت اور اس کی مدد کے بغیر کوئی نہیں، جو اس کی سچی عبادت کی توفیق پاسکے۔پس ہماری روحیں آج اسی کے حضور سربسجو د ہیں اور اسی کو پکارتی ہوئی، اس کے آستانہ الوہیت پر گرتے ہوئے ، یہ التجا کرتی ہیں کہ اے وہ، جو تمام ہدایت کا سر چشمہ ہے، ہمیں اپنے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔اور سیدھے راستہ پر قائم رکھ۔یہاں تک کہ ہم اس انجام کو پہنچیں، جور است بازوں کا انجام ہے۔یعنی اس سیدھی راہ پر چلنے والوں کا انجام، جن پر تو نے انعام فرمایا اور جو تیرے حضور آخر تک راست باز ٹھہرے۔اے ازلی و ابدی خدا! جو ہر نور کا منبع اور ہر ہدایت کا سر چشمہ ہے، ہمیں ان بدنصیبوں کے انجام سے بچا، جو ایک بار تیری سیدھی راہ پر چلنے کے باوجود اس راہ کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکے اور تیرے انعام کی بجائے تیرے غضب کا مورد ٹھہرے۔اور ان گم کردہ راہوں کے انجام سے بھی بچا، جو چند قدم تیری راہ پر چلنے کے بعد اس راہ کو چھوڑ بیٹھے اور تیری ہدایت کے نور سے عاری ہو کر شیطان کے ظلماتی راستوں پر بھٹک گئے۔آج اس مسجد کے افتتاح کے دن ہمارے دل حمد و ثناء سے لبریز ہیں اور اسی کا ذکر ہماری زبانوں پر جاری ہے اور اسی کی یاد ہمارے جسم و جان کے ہر ذرہ میں رچ بس گئی ہے۔اور ہمارے وجود مجسم دعا بن چکے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق بخش اور ان اعلیٰ اقدار کی حفاظت کی طاقت بخش، جو ہر اس مسجد کے ساتھ وابستہ ہیں، جو خالصہ تیرے نام پر، تیری ہی عبادت کے لئے تعمیر کی جاتی ہے۔31