تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 372
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم میں احمدی ٹھہرے، جس جگہ گئے ، جہاں قیام کیا، وہاں لوگوں نے ان کے ساتھ بڑی محبت کا سلوک کیا۔یہاں تک کہ ایک ہوٹل والوں نے تو چابیاں ہمارے دوستوں کے سپرد کر دیں، اب تم مالک ہو اس کے، جس طرح چاہوں، کھاؤ پکاؤ اور خوش رہو۔کیونکہ تم ہمارے مہمان ہو۔چنانچہ بغیر کسی کوشش کے بغیر کسی جدو جہد کے جہاں جہاں ہم گئے، وہاں ہمارا حیرت انگیز استقبال ہوا۔اسی طرح پولیس نے جو (coverage) کو ریج دیا ہے، وہ بھی حیرت انگیز ہے۔دنیا کی کوئی ایجنسی کروڑوں روپے میں بھی اس طرح آرگنا ئز نہیں کر سکتی تھی۔میں جب ربوہ سے چلا ہوں، اس وقت تک 35 مختلف اخباروں کے تراشے موصول ہو چکے تھے ، جنہوں نے اپنی متعدد اشاعتوں میں مسجد چین کا ذکر کیا اور پھر جاری رکھا۔اور اتنے احسن رنگ میں ذکر کیا کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان لوگوں کو ہو کیا گیا ہے؟ یعنی وہ ہر بات کی تان اسلام کی فتح پر توڑتے تھے۔جینیوا (سوئٹزرلینڈ) کے ایک اخبار، جو دنیا کے چوٹی کے اخبارات میں شمار ہوتا ہے، اس نے نہ تو ہم سے کوئی رابطہ قائم کیا، نہ اس کا ہمیں کوئی علم تھا۔لیکن جب اس نے سپین کے اخباروں کا یہ چرچا دیکھا تو اس کے نمائندہ نے ایک مضمون لکھا، جس میں بڑی تفصیل سے میرے دورے پر روشنی ڈالی۔اس نے کہا: ہم نے مختلف لوگوں کے انٹرویو کئے ہیں، جن میں پادریوں سے بھی انٹرویو شامل ہیں اور سیاستدانوں سے بھی، پولیس والوں سے بھی انٹر ویولتے ہیں اور عام پبلک سے بھی لئے ہیں۔اس نے کہا: پادری تو یہ کہ رہے تھے کہ یہ آئے ہیں اور چلے جائیں گے۔جس طرح یہ عیسائی نہیں ہو سکتے ، اسی طرح ہم مسلمان نہیں ہوسکیں گے۔لیکن مسجد سے جماعت احمدیہ کا خلیفہ جو اعلان کر رہا تھا، اس میں ایک شوکت تھی، اس میں ایک طاقت تھی اور اس کی آواز سب آوازوں پر بھاری تھی کہ تم سپین کی باتیں کرتے ہو ، ہم ساری دنیا کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں لاکر کھڑا کر دیں گے۔پھر اس نے لکھا کہ ایک اخبار والے نے جب یہ پوچھا کہ آپ کے پاس ہے کیا ؟ آپ اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، آپ کیا کریں گے؟ تو انہوں نے (امام جماعت احمدیہ نے ( جواب دیا کہ ہم تمہاری گلیوں میں درویشانہ پھریں گے اور تمہارے گھروں کے دروازوں کی کنڈیاں کھٹکھٹائیں گے۔اور ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ خدا کے فرشتے بھی تمہارے دلوں کی کنڈیاں کھٹکھٹا رہے ہوں گے۔پس چونکہ ہم کامل اخلاص اور قربانی کے جذبہ سے معمور ہو کر تمہارے پاس اسلام لے کر حاضر ہوئے ہیں ، ہم یقیناً کامیاب ہوں گے۔پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اخباری نمائندوں نے یہاں تک دیانت داری اور ہمدردی کا ثبوت دیا کہ جب میں غرناطہ پہنچا یعنی پید رو آباد جانے سے پہلے جب ہم ملا گا ایئر پورٹ سے پہلے غرناطہ گئے تو 372