تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 373

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم۔خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء چونکہ میں نے منتظمین سے یہ کہا ہوا تھا کہ غرناطہ میں الحمراء کے اندر جو ہوٹل ہے، اس میں ہم نے ٹھہرنا ہے۔اس سے خاص درد بھری یادیں وابستہ ہیں۔وہاں ٹھہریں گے تو دعا کی تحریک ہوگی۔چنانچہ ہم ہوٹل میں داخل ہوئے تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب مجھے اهلا و سهلا و مرحباً، اهلا وسهلا و مرحباً كى آواز آئی۔دیکھا تو وہ پریس کے نمائندے تھے، جو پہلے سے اھلا و سهلا و مرحبا یا د کر کے تیار کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ آپ تھکے ہوئے تو ضرور ہوں گے لیکن ہمیں سخت شوق ہے، ہم آپ کا ابھی انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔میں نے کہا: آپ بڑے شوق سے انٹرویو لیں۔یہ تو آپ میرے دل کی بات کہ رہے ہیں۔ابھی اوپر کمرے میں آجائیں اور ایک کافی کی پیالی پر بیٹھ کر گفتگو کر لیتے ہیں۔چنانچہ اس انٹرویو میں، جو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، اس میں ایسی باتیں پوچھی گئیں، جو ساری کی ساری اسلام کی تائید میں تھیں۔ان میں ایک خاتون نمائندہ بھی تھیں، اس نے سب سے زیادہ عمدہ کردار ادا کیا۔وہ سوال کرنے کے لئے ایسے فقرے چھنتی تھی ، جن کے متعلق وہ یہ بھتی تھی کہ یہ لوگوں کے دل پر زیادہ اثر ڈالیں گے۔پریس کانفرس میں بعض دفعہ بھول چوک بھی ہو جاتی ہے، دشمن پر لیس اس کو اٹھاتا ہے۔لیکن پریس کے نمائندگان نے ایسی ساری باتوں کو نظر انداز کر دیا اور اگلے دن اخباروں میں عنوان لگے کہ اہل سپین نے اسلام کے لئے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔جب یہ پریس کانفرنس ختم ہوئی اور نمائندگان جانے لگے تو انہوں نے پوچھا کہ کل آپ کا کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا : کل تو ہم انشاء اللہ الحمراء دیکھیں گے، اس کے بعد پید رو آباد جائیں گے۔چنانچہ یہ پوچھ کر وہ چلے ، گئے لیکن اگلے دن پریس کے یہی نمائندے الحمراء پہنچے ہوئے تھے۔سارا دن ہمارے ساتھ پھرتے رہے، سپینش لوگ جو ہمیں تعجب سے دیکھ رہے تھے اور گروہ در گروہ اکٹھے ہورہے تھے، یہ ان کو ہماری طرف سے تبلیغ کرتے تھے۔گزشتہ روز پریس انٹرویو میں جوتبلیغی باتیں سنی تھیں، وہ ان کے سامنے ہماری طرف سے بیان کر رہے تھے۔خدا تعالیٰ نے بڑے اچھے ترجمان عطا فر ما دیئے تھے۔جب وہ الوداع ہونے لگے تو اخبار کا ایک نمائندہ ، جو بعد میں وہاں پہنچا تھا، اس نے کہا کہ مجھے ایک فقرہ میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ میں اسے اہل سپین میں (flash) فلیش کردوں۔میں نے کہا: پھر وہ فقرہ یہ ہے کہ ہم نے تلوار کے ذریعہ سپین میں جو کچھ کھویا تھا، اب محبت سے دوبارہ فتح کرنے کے لئے آگئے ہیں۔اس ایک فقرہ کا ایساز بر دست چرچا ہوا کہ ایک اخبار سے دوسرے اخبار نے پکڑا، دوسرے سے تیسرے نے پکڑا اور اس فقرہ کی صدائے بازگشت سارے یورپ میں سنائی دینے لگی۔لیکن جہاں تک اہل سپین کا تعلق تھا، ان کو یہ یقین ہوتا چلا گیا کہ یہ تلوار کے زور سے کچھ لینے نہیں آئے بلکہ محبت کے زور سے ہمارے دلوں کو فتح کرنے آئے ہیں۔373