تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 370
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک حفاظت فرما، تو اپنے فضل سے ان کے دلوں کو بدل دے اور اسلام کے لئے ان کے سینوں کو کھول دے۔چنانچہ ساری دنیا میں یہ دعائیں ہورہی ہیں۔انگریز کیا اور امریکن کیا ، کالے کیا اور گورے کیا ، چینی کیا اور جاپانی کیا، ساری دنیا میں جماعت باقاعدہ راتوں کو اٹھ کر تہجد میں یہ دعائیں کر رہی تھی کہ اے خدا! اس تقریب کو کامیاب فرما۔پس دعا ایک ایسی طاقت ہے، جن سے دنیا واقف نہیں۔اس کے تصویر میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ آج کے زمانہ میں ایسے پاگل لوگ بھی موجود ہیں، جو ایک آواز پر راتوں کو اٹھ اٹھ کر خدا کے حضور آنسو بہا سکتے ہیں۔چنانچہ وہاں میں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح برستے دیکھا ہے، جس طرح ان دعا کرنے والی آنکھوں سے آنسو برسا کرتے تھے۔ایسی حیرت انگیز اور پاک تبدیلی پیدا ہوئی کہ اہل یورپ، جو اہل سپین کو خوب اچھی طرح جانتے تھے، وہ بھی حیران و ششدر رہ گئے۔چنانچہ نیک تمنائیں رکھنے والوں کے لئے بھی یہ بات تعجب انگیز تھی۔مثلاً جرمنی اور سیکنڈے نیوین ممالک کے مسلمان مجھے یہ کہہ کر ڈرا ر ہے تھے کہ اس ملک کو آپ نہیں جانتے ، ہم یورپ میں رہتے ہیں، ہم ان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔آپ اونچی تو قعات لے کر وہاں نہ جائیں۔یہاں تک کہ سوئٹزر لینڈ سے مجھے بار بار خط بھی ملے ، تاریں بھی آئیں، فون بھی آئے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے کوئی تیاری نہیں کی۔وہاں تو انہوں نے آپ کی خبروں کو بلیک آوٹ کر دینا ہے۔جب تک آپ لاکھوں ڈالر خرچ نہیں کریں گے اور ایجنسیز کو روپیہ نہیں دیں گے، اس وقت تک آپ کی خبریں شائع نہیں ہوں گی۔اور آپ کوئی انتظام نہیں کر رہے۔میں نے ان کو جواب دیا کہ میں نے تشہیر کا معاملہ اس ذات کے سپرد کر دیا ہے، جو ہر دل کا مالک ہے۔وہ جب چاہے گا، جس طرح چاہے گا، وہ تشہیر فرمائے گا۔یہ خدا کے دین کا کام ہے۔رب کعبہ وہ ہے، میں نہیں ہوں۔چنانچہ میں نے اس کی مثال کے طور پر وہ مشہور واقعہ بیان کیا اور وہ واقعہ یہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کی تو اہل مکہ نے حضرت عبدالمطلب کو نمائندہ بنا کر اس کے پاس بھجوایا کہ اس کو خدا کا خوف دلائیں۔لوگوں کے لئے یہ ایک حرم ہے، امن کی جگہ ہے، تمام بنی نوع انسان کے درمیان ایک مشترک جگہ ہے۔تم کیا ظلم کر رہے ہو کہ اس کو ڈھانے کے ارادہ سے نکل کھڑے ہوئے ہو ؟ چنانچہ جب وہ ابرہہ کے پاس گئے تو انہوں نے ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی اس سے نہیں کی اور ابرہہ سے جا کر کہا کہ میرے سو اونٹ گم ہو گئے ہیں اور مجھے شک ہے کہ تمہاری فوج نے کھالئے ہیں۔اس لئے سردار کے طور پر میں ایک سردار کے پاس حاضر ہوا ہوں اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یا میرے اونٹ دلوائے جائیں یا ان کی قیمت دلوائی جائے۔ابرہہ نے کہا: اونٹ تو میں دلوا دوں گا لیکن آج کے بعد عربوں 370