تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 369

خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کی توفیق مجھے عطا فرمائی۔ہم موت و حیات کا ایک مختلف فلسفہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ انسان عارضی طور پر ایک ہیئت تو بدلتا ہے لیکن موت ان معنوں میں طاری نہیں ہوتی ، جن معنوں میں پتھر اور پہاڑ اور دوسری مادی چیزیں مردہ کہلاتی ہیں۔ہمارے نقطہ نظر سے انسان خدا کے فضل سے ایک دائمی زندگی پاتا ہے۔اس لئے صرف جگہ یا شکل بدلنے کا نام موت ہے۔پس میں یقین کرتا ہوں اور اس وقت بھی، جس وقت میں مسجد کا افتتاح کر رہا تھا، میرے دل سے نہ صرف دعا اٹھ رہی تھی بلکہ حضرت خلیفة المسیح الثالث کے ساتھ ایک قلبی رابطہ قائم تھا۔چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصدق الصادقین ہیں، آپ نے ہمیں یہ خبر دی تھی کہ تمہاری نیکیوں اور نیک اعمال کی خبر تمہارے عزیزوں کو خدا اس دنیا میں پہنچاتا رہتا ہے۔اور یہ واضح ارشاد فرمایا تھا کہ تم مجھ پر جو درود اور سلام بھیجو گے، وہ ہمیشہ مجھے پہنچتے رہیں گے۔ان معنوں میں کہ روحانی طور پر آپ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔اور محبت اور پیار سے جو درود اور سلام مجھے بھیجے جائیں گے، وہ مجھ تک پہنچیں گے۔پس اس یقین کے ساتھ اگر چہ آنکھیں آبدیدہ تھیں لیکن دل اس لحاظ سے خوش بھی تھا کہ یقیناً آپ کی روح ابدی دنیا میں مسرت محسوس کر رہی ہوگی۔مطبوعه روزنامه الفضل 19 مارچ 1984ء) قربانی کی اس تاریخ نے وہاں ایک اور عجیب منظر بھی پیدا کیا۔اہل سپین جماعت کی کوششوں سے دیر سے آشنا تھے۔اہل سپین کا ایک بہت بھاری طبقہ جانتا تھا کہ یہ دیوانے لوگ ہر قسم کی قربانیوں کے ذریعہ اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو لازماً یہاں داخل کر کے چھوڑنا ہے۔چنانچہ پین نے اس موقع پر جو استقبال کیا ہے، وہ کوئی اتفاقا رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے، کوئی انقلابی بات نہیں ہے۔بلکہ ایک تدریجی اور ارتقائی عمل تھا، جو بالآخر اپنے نقطہ کو پہنچا اور اتنا حیرت انگیز استقبال ہوا کہ انسانی عقل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔اس کے پس منظر میں ایک اور بات بھی تھی، جو اپنے اندر ایک بہت بڑی قوت اور ٹھوس حقیقت رکھتی ہے۔اگر مسلمان اس کو اختیار کر لیں تو ان کی ہر کمزوری طاقت میں بدل سکتی ہے۔اور یہ حقیقت دعا ہے جو حیرت انگیز اثر دکھاتی ہے۔ہم نے اس سفر پر روانہ ہونے سے بہت پہلے دعا کی تحریک کی۔جس پر ساری دنیا میں احمدی راتوں کو اٹھ کر گریہ وزاری کرنے لگے کہ اے خدا! تیرے نام کی خاطر اور خالصہ تیرے دین کے وقار کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہم نے یہ ایک غریبانہ قدم اٹھایا ہے۔تو اس میں برکت دے۔وہ لوگ اسلام سے متنفر ہیں، ان کی ساری تاریخ ظلم وستم کی تاریخ ہے۔وہاں ہم تیرا نام لے کر جا رہے ہیں تو ہماری 369