تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 28

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہیں، اخلاقی تنزل کی۔دنیا میں جتنی بے اعتمادی زیادہ ہو اور یہ یقین بڑھتا جائے کہ کوئی قوم بھی قابل اعتبار نہیں رہی ، جس کو طاقت نصیب ہوگی ، وہ تمام اخلاقی ضوابط کو کچل کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی ، اس وقت ہتھیاروں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔اور یہی Cold War یعنی سرد جنگ کہلاتی ہے۔لیکن دنیا میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ سرد جنگیں ٹھنڈی رہی ہوں۔لازماً ایک وقت آتا ہے، جب وہ گرم جنگوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔پس ان دونوں لحاظ سے وہ نقطے قریب آ پہنچے ہیں۔اس پس منظر میں جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے، ابھی تک ہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں پوری طرح آغاز سفر بھی نہیں کر سکے۔ساری دنیا کو جھنجھوڑنا، اس کو جگانا اور خدائے حی و قیوم کی طرف متوجہ کرنا، یہ ہمارا کام تھا۔اور ہمارے کام سے مراد مبلغین کا کام نہیں ہے۔دنیا میں تو میں کبھی بھی مبلغین کے ذریعہ ترقی نہیں کیا کرتیں۔مبلغین تو صرف مذکر یعنی یاددہانی کرانے والے ہوتے ہیں۔تبلیغ کا بوجھ ساری جماعت اٹھایا کرتی ہے۔ساری دنیا میں اسلام کی جو تبلیغ ہوئی ہے، وہاں کون سے مبلغ تھے، جنہوں نے فتح کیا ہے؟ مبلغین تو یاد دہانی کا کام کیا کرتے تھے تبلیغ کا حقیقی کام عوام الناس نے کیا ہے۔چین کو کن مبلغین نے مسلمان بنایا تھا؟ انڈونیشیا کوکن مبلغین نے مسلمان بنایا تھا؟ ہندوستان میں کن مبلغین نے اسلام پھیلایا تھا ؟ انفرادی طور پر کچھ تاجر تھے اور کچھ درویش صفت لوگ تھے، جو خدا کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔وہ جہاں جہاں گئے ، اسلام کی تبلیغ واشاعت کا کام بھی کرتے رہے۔اس طرح اسلام مختلف ملکوں میں پھیلتا چلا گیا۔یہ وہ اہم پہلو ہے، جس کی طرف میں توجہ دلا رہا ہوں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، معلوم ہوتا ہے، ابھی ہم نے آغاز سفر بھی نہیں کیا۔یورپ کی اکثر جماعتیں جن کو میں دیکھ کر آیا ہوں، ان میں احساس نہیں ہے، بے چینی نہیں ہے۔وہ اس معاشرہ سے اس حد تک راضی ہو گئے ہیں کہ ان کو کام مل گئے اور ان کی ضروریات پوری ہو گئیں۔اور اس حد تک ناراض ہی ہیں، جس حد تک ان کے کام پورے نہیں ہوئے یا ان کی راہ میں مشکلات حائل ہیں۔لیکن یہ بے قراری، یہ بے چینی اور تڑپ میں نے نہیں دیکھی کہ ہر شخص بے چین ہو جائے کہ میرا معاشرہ تباہ ہورہا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر بدلنے کے لئے نمائندہ مقرر فرمایا ہے۔بظاہر یہ ویسی ہی بات ہے، جیسے ٹیٹری کے متعلق کہتے ہیں، وہ ٹانگیں اونچی کر کے سوتی ہے۔کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا، مجھے خطرہ یہ ہے کہ آسمان نہ گر پڑے اور دنیا تباہ نہ ہو جائے۔اس لئے میں ٹانگوں پر روک لوں گی۔ہماری مثال بظاہر ٹیری کی سی ہوگی۔لیکن ہر وہ چھوٹا سا دل، جس میں یہ فکر پیدا ہو کہ آسمان نہ ٹوٹ پڑے اور میں اس سے بچانے کی کوشش کروں، اس کو یہ بھی تو معلوم ہونا چاہئے 28