تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 368

خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک دردناک پس منظر میں اور بڑی قربانیوں کے نتیجہ بنائی گئی۔اور یہی وجہ ہے کہ اگر چہ ہم باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزار ہا مسجدیں تعمیر کر چکے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں لیکن ان کا ایسا ذ کر آپ نے نہیں سنا، جتنا اس مسجد کا ذکر سنا ہے۔یہ مسجد جب تعمیر کی گئی، اس سے دو سال پہلے تک یعنی تعمیر کے آغاز سے دو سال پہلے تک سپین میں وہی سختی کا عالم طاری تھا، جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے۔کسی کو اجازت نہیں تھی۔یہاں تک کہ پروٹسٹنٹ عیسائیوں کو بھی کوئی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔اس وقت میرے پیش رو حضرت خليفة المسيح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں تشریف لے گئے تو کرم الہی ظفر صاحب نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ اتنی مدت ہو گئی ہے، میں تبلیغ کر رہاں ہوں۔ایک طرف سے مسلمان ہورہے ہیں اور دوسری طرف سے مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد نہ ہونے کی وجہ سے ضائع بھی ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لیے اگر آپ مستقل طور پر حقیقتا قوم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک مرکز کا قیام ضروری ہے۔اور پھر یہ بھی کہا کہ اس قوم کے حالات سے مجھے اندازہ ہے کہ بیس سال بعد شاید اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے دے تو ہم مسجد بنالیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کے دل پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا۔آپ نے رات کو بڑے درد کے ساتھ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوشخبری دی کہ میں سال دور کی بات ہے، ہم بہت جلد وہ سامان پیدا کر دیں گے، جن سے تمہارے دل کی آرزوئیں پوری ہو جائیں گی۔آپ نے صبح کرم الہی ظفر کو بلا کر کہا کہ تمہیں خوشخبری ہو، اللہ تعالیٰ مجھے فرمایا ہے کہ ہم بہت جلد تمہارے لیے خوشخبری کے سامان پیدا کرنے والے ہیں۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد جب آپ واپس آگئے تو اس کے تھوڑے ہی عرصہ کے اندر سپین کی حکومت بدل گئی۔سپین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا۔اس اعلان کے نتیجہ میں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ دنیا کے دوسرے مذاہب اور فرقوں کو بھی وہاں داخل ہونے کی اور کھلم کھلا اظہار رائے کی اجازت دی گئی۔جوں ہی یہ اعلان ہوا، مسجد کے لئے زمین کی تلاش اور مسجد کی تعمیر کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔دو سال کے عرصہ میں یہ مسجد مکمل ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ جس نے اس مسجد کی بنیاد ڈالی تھی ، اس کے مقدر میں اس کا افتتاح کرنا نہیں تھا۔ہر انسان کا ایک وقت مقرر ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی ایک وقت مقرر تھا۔خدا نے آپ کی یہ آرزو پوری کر دی کہ اپنے ہاتھ سے اس کی بنیاد ڈالیں اور یہ نظارہ بھی دکھادیا کہ آپ کی زندگی میں یہ مسجد مکمل ہوگئی۔لیکن اس کے افتتاح 368