تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 360
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم ے زمانہ میں بہی کے زمانہ عروج میں اندلس کی سرزمین میں دیکھی گئی۔اس کی داستان بہت لمبی ہے۔مسلمانوں کی اس حکومت میں حیرت انگیز فراخ دلی اور وسیع حوصلگی کا مظاہرہ کیا گیا۔یہاں تک کہ وہ بد قسمت یہودی، جو خدا جانے کس بات کا انتقام آج مسلمانوں سے لے رہے ہیں، ان کا تمام تر عروج مسلمانوں کی مرہون منت تھا۔مسلمانوں کی طرف سے حیرت انگیز وسیع حوصلگی کے ساتھ ان کو پنپنے اور پرورش پانے کا موقع دیا گیا، یہاں تک کہ دنیا کے تمام علوم میں انہوں نے ترقی کی۔دنیا کے تمام فنون میں انہوں نے کمال حاصل کیا اور جب یہ حکومت ٹوٹی تو اس کے کھنڈرات پر ہی دراصل یورپ کی دیگر حکومتوں کی تعمیر کی گئی۔اسی طرح عیسائیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں کے حسن سلوک کے بے شمار واقعات ملتے ہیں اور عیسائی مورخین جب ان کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا سر ندامت کے ساتھ جھک جاتا ہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس روشن تاریخ سے نکل کر انہیں لازماً اس ظلماتی تاریخ میں بھی داخل ہونا پڑے گا۔جب ان کے اپنے زعم کے مطابق عیسائیت پوری شان شوکت کے ساتھ پین میں جان نشین تھی۔یہ دور اس برعکس صورت کی انتہائی مثال ہے۔از ابیلا اور فرڈی منڈ کے آنے کے ساتھ تاریکی کا یہ دور شروع ہوتا ہے۔اس سے پہلے بھی سپین میں اگر چہ انکیو زیشن (Inquisition) کی institution انسٹی ٹیوشن پوپ کی اجازت سے 1290ء میں قائم کی گئی تھی۔مگر جلد ہی پوپ نے محسوس کیا تھا کہ اس Inquisition کا اتنا غلط استعمال شروع ہو گیا۔ہے کہ عیسائیت کو اس سے شدید نقصان پہنچے گا۔چنانچہ پوپ کی طرف سے یہ اجازت واپس لے لی گئی۔لیکن از ابیلا اور فرڈی سنڈ ، جنہوں نے آکر مسلمان حکومت کا خاتمہ کیا۔انہوں نے 1480ء میں دوبارہ اس انسٹی ٹیوشن کو زندہ کیا۔شروع میں اس انسٹی ٹیوشن کے ذریعہ عیسائیوں پر مظالم ہوئے کیونکہ ان کا دعوی یہ تھا کہ Inquisition کے نظام کا تعلق صرف عیسائیوں سے ہے اور یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔اور اس کا کسی بین الاقوامی ضابطہ اخلاق سے کوئی تعلق نہیں۔ہم اپنے ماننے والوں پر جس قسم کی عقوبت چاہیں عائد کر سکتے ہیں۔یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔چنانچہ Inquisition کی تاریخ میں یہ بات لکھی گئی کہ صرف عیسائی ہی نہیں بلکہ رومن کیتھولک عیسائی فرقے کو مذہبی سزائیں دینے کے لئے Inquisition کے نام پر ایک انسٹی ٹیوشن قائم کیا جاتا ہے۔چنانچہ از اپیلا اور فرڈی بنڈ نے پہلے تو خود عیسائیوں پر کچھ مظالم کئے۔لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیت کچھ اور تھی۔چنانچہ جب 1492ء میں مسلمانوں کا سپین سے انخلاء ہوا تو اس انسٹی ٹیوشن کو خالصہ مسلمانوں کو سزا دینے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔پہلے پہل یہ دعوی کیا گیا کہ Inquisition کے ذریعہ کسی غیر مذہب کو سزا نہیں دے سکتے۔لیکن مسلمان کے لئے اب دوہی 360