تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 359
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء سپین میں تلوار سے جو کچھ چھینا گیا تھا، ہم محبت سے دوبارہ فتح کریں گے خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء سفر یورپ سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی کامیاب مراجعت پر جماعت احمد یہ لاہور کی طرف سے حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا، اس موقع پر حضور نے درج ذیل خطاب فرمایا:۔تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مذہب یا خدا کے نام پر قائم ہونے والی حکومتوں کی دوانتہائی شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔مذہب اور خدا کے نام پر قائم ہونے والی ایسی بھی حکومتیں دنیا میں آئیں، جن میں حکمران تقوی سے خالی نہ تھے۔ان کے دلوں میں اس خدا کا خوف تھا، جس کے نام پر وہ حکومت کرتے تھے۔اور ایسی حکومتیں بھی ہمارے سامنے آئیں، جن میں نام تو خدا کا لیا گیا اور اپنے آپ کو مذہب کی طرف منسوب کیا گیا لیکن حکومت کرنے والوں کے دل تقویٰ سے اسی طرح خالی تھے، جیسے ایک گھونسلا ہو، جسے پرندہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گیا ہو۔اس کے گھونسلے میں گند تو ماتا ہے، پرانے بوسیدہ پروں کے نشان تو ملتے ہیں مگر وہ رونق نہیں ہوتی، جو ہر مسکن کو زندگی سے نصیب ہوا کرتی ہے۔اس تاریخی عمل کے مطالعہ کے لئے تمام دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ مواد سپین کی سرزمین میں ملتا ہے۔یہ دونوں عمل وہاں بڑے واضح رنگ میں جاری ہوئے اور اپنی انتہاء کو پہنچے۔چنانچہ آج کی دنیا کی تاریخ میں اگر ایک ملک کا انتخاب کرنا ہو، جس میں دونوں قسم کی مثالیں اپنے درجہ کمال کو پہنچی ہوئی دیکھنی ہوں تو یہ ملک بلا اختلاف اور بلاشبہ اندلس کی سرزمین ہے۔ایک دور وہاں ایسا آیا جبکہ متقی اور خدارسیدہ مسلمانوں کی حکومت تھی، ان میں کمزوریاں بھی تھیں، ان میں نسبتاً کم تقویٰ شعار لوگ بھی تھے لیکن اس حکومت کی عمومی حالت یہ تھی کہ تقویٰ کا رنگ ان پر ہمیشہ غالب رہا۔اس کے نتیجہ میں سپین کی سرزمین پر ایک ایسی حکومت حکومت قائم ہوئی کہ آج تک مخالف سے مخالف یورپین مؤرخ بھی یہ کہنے سے نہیں ہچکچاتا کہ تمام یورپ کی تاریخ میں کبھی کسی نے ایسی شاندار حکومت نہیں دیکھی، ایسی انصاف پسند حکومت نہیں دیکھی جیسی کہ مسلمانوں 359