تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 361
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء صورتیں ہیں یا تو وہ عیسائیت قبول کریں اور یا ہمیشہ کے لئے اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں۔اس کے بعد مختلف حیلوں اور بہانوں سے انہوں نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو عیسائی بننے پر مجبور کر دیا اور جب وہ عیسائی بن گئے تو پھر Inquisition کا اطلاق کر کے تاریخ کے ایک ہی سال میں تین ہزار مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔کیونکہ اب ان پر عیسائیت کی چھاپ لگ چکی تھی اور کہا یہ گیا کہ تم عیسائی تو ہو مگر دل سے عیسائی نہیں۔جب اس پر بھی پوری طرح اطمینان نہ ہوا تو وہاں کے لارڈ بشپ نے یہ تجویز پیش کی کہ باقی ماندہ مسلمان کو اس ملک سے ختم کرنے کے لئے یہ قانون بنا دیا جائے کہ یا تو وہ کلیہ ملک چھوڑ دیں یا مردوں، عورتوں اور بچوں کو بلا استثناء تہ تیغ کر دیا جائے۔لیکن اس نے اپنی تجویز میں عیسائیت کے فروغ کے لئے یہ پہلو باقی رکھا کہ اگر ان میں سے کوئی عیسائی ہو جائے تو اس کو معاف کر دیا جائے گایا جو پہلے سے عیسائی ہیں تو ان کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔لیکن ایک اور سر پھرا اور مخبوط الحواس پادری ایسا بھی تھا، جس نے اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ جو پہلے عیسائی ہو چکے ہیں، ان کو باقی رکھنے کا تمہارے پاس کیا جواز ہے؟ تمہیں تو پتہ ہی نہیں کہ وہ دل سے عیسائی ہوئے ہیں یا نہیں؟ یہ تو خدا بہتر جانتا ہے۔اب بات کتنی سچی اور حقیقی ہے۔انسان کو کیا پتہ کہ کوئی دل سے کیا ہے؟ لیکن اس کا نتیجہ کتنا خطر ناک اور غلط نکلا جا سکتا ہے۔یہ اس کی مثال ہے۔اس نے کہا: چونکہ تم یہ نہیں جان سکتے کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ عیسائیت ہے یا اسلام ہے؟ اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سب کو قتل کر دو۔خدا آپ ہی چھان بین کر لے گا کہ کون جہنمی ہے اور کون جنتی ہے؟ اس نے جس کو جہنم میں پھینکنا ہوا، جہنم میں ڈالے گا۔جس کو جنت میں داخل کرنا ہو ، اس کو وہ جنت میں داخل کر دے گا۔ظلم کون سا ہو گیا اس میں؟ چنانچہ اس ترکیب پر بھی عمل کیا گیا۔پین کی تاریخ ایسی خوفناک اور سیاہ کاری سے داغدار ہے کہ اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا۔جس کے نتیجہ میں ہزار ہا ان عیسائیوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا، جو پہلے مسلمان تھے۔اور دوسری طرف لکھوکھا مسلمانوں کو واقعہ قتل کر دیا گیا۔اس پر بھی ان کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔کیونکہ ابھی مسلمانوں کی خصوصا جنوب کے پہاڑی علاقوں میں ایک بہت بڑی تعداد آباد تھی۔40،30 لاکھ تک وہ تعداد بتائی جاتی ہے۔ان سب کو تہ تیغ کر دینا یا زندہ جلا دینا، کوئی آسان کام نہ تھا۔چنانچہ ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہا کہ ان کو ملک بدر کر دیا جائے اور ملک بدر کرتے ہوئے راستے میں قزانوں اور قاتلوں کی ایسی ٹولیاں مقرر کی گئیں، جوحتی المقدور ایک مسلمان کو بھی ملک سے باہر نہ جانے دیں۔چنانچہ مسلمانوں کے ایسے جتنے قافلے بھی روانہ ہوئے ، ان پر کیا بیتی؟ اس کی تفصیل میں تو عیسائی مؤرخین اختلاف کرتے ہیں۔کوئی زیادہ تعداد 361