تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 204
خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک انہوں نے بظاہر اپنی توفیق سے بہت بڑھ کر چندے لکھوائے۔سلسلہ کے بعض کلرک ایسے تھے ، جن کو اس زمانے میں پندرہ روپے مہینہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔انہوں نے تین ، تین مہینے کی تنخواہیں لکھوادیں۔بعض ایسے تھے، جنہوں نے دو مہینے کی تنخواہ لکھوادی۔اور ذہن پر یہی اثر تھا کہ ایک، دو سال کے اندر ہم ادا کر دیں گے۔سلسلہ کے بہت سے ایسے بزرگ بھی تھے، جو اگر چہ کچھ زائد تنخواہ پانے والے تھے۔لیکن اس زمانے میں بھی ان کی تنخواہ دنیا کے لحاظ سے بہت کم تھی۔مثلاً ناظروں کے معیار کے لوگ اور سلسلہ کے پرانے خدام اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی کبھی خدمت کی توفیق پائی تھی، پچاس، ساٹھ ستر روپے ماہوار سے زیادہ ان کی تنخواہیں نہیں تھیں۔ان میں سے بھی بعض نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندے لکھوائے۔مثلاً حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اڑھائی سو روپے چندہ لکھوایا۔اسی طرح دیگر بزرگوں میں سے مولوی ابوالعطاء صاحب (جو اس وقت کی نسل میں نسبتاً چھوٹے تھے۔) اور مولوی جلال الدین صاحب شمس نے بھی پچاس پچاس روپے، پچپن پچپن روپے لکھوائے۔جو اس زمانے کے لحاظ سے ان کی آمد کے مقابل پر بہت زیادہ تھے۔لیکن اس وقت یہ بات کھل کر سامنے نہیں آئی تھی کہ یہ تحریک مستقل نوعیت کی ہے۔ہاں بعد میں جب یہ اعلان کیا گیا کہ یہ ایک سال کے لئے نہیں بلکہ تین سال کے لئے تھی تو ان زیادہ لکھوانے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا، جس نے یہ درخواست کی ہو کہ غلط نہی میں زیادہ لکھوادیا گیا ہے، طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہے، اس لئے ہمیں اجازت دی جائے کہ اس چندے کو کم کر دیں۔بلکہ خود حضرت مصلح موعود نے پیشکش فرمائی کہ اگر کسی نے غلط فہمی سے اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ لکھوا دیا ہے تو اس کو کم کروانے کی اجازت ہے۔یہ درخواستیں تو موصول ہوئیں کہ حضور! ہمیں یہ چندہ اسی طرح ادا کرنے کی اجازت دی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس عہد پر قائم رہیں۔لیکن کوئی یہ درخواست نہیں آئی کہ ہمارے چندے کو کم کر دیا جائے۔بعد میں جب یہ بات اور کھل گئی کہ یہ تحریک تین سال کے لئے نہیں بلکہ ایک مستقل اور ایسی عظیم الشان تحریک بننے والی ہے، جس کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچنی تھی اور جس کے نتیجے میں حضرت مصلح موعودؓ نے زمین کے کناروں تک شہرت پانی تھی، تب بھی کوئی پیچھے نہیں ہٹا۔بلکہ قربانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔بزرگوں کا بھی یہی عالم تھا، امیروں کا بھی یہی عالم تھا ، متوسط طبقے کے لوگ، جو سلسلے کے کاموں سے براہ راست متعلق نہیں تھے، ان کی بھی یہی کیفیت تھی اور غرباء کی بھی یہی کیفیت تھی۔تمام جماعت کے ہر طبقے 204