تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 203

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچی تھی المسيح خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تحریک جدید کے آغاز کو آج اڑتالیس سال گزر چکے ہیں اور اب ہم 49 ویں سال میں داخل ہورہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1934ء میں سب سے پہلے قادیان میں اس تحریک کا آغاز فرمایا۔یہ وہ دن تھے، جب ابھی فضا میں احرار کے ان دعوؤں کی آواز گونج رہی تھی کہ ہم مینارة کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور قادیان کو اس طرح مسمار کر دیں گے کہ وہاں قادیان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔اور ایک وجود بھی ایسا نہیں رہے گا، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام لینے والا ہو۔فضاؤں میں بہت ارتعاش تھا اور احمدیوں کی طبیعت میں بھی ایک ہیجان تھا، ایک جوش تھا اور ایک ولولہ تھا۔جتنی قوت کے ساتھ جماعت کو دبانے کی کوشش کی جارہی تھی، اتنے ہی زور کے ساتھ یہ جماعت اچھلنے کے لئے تیار بیٹھی تھی۔ایک آواز کا انتظار تھا، یعنی خلیفۃ المسیح کی آواز کا کہ وہ جس طرح چاہیں، جس طرف چاہیں، قربانیوں کے لئے بلائیں۔لیکن دل سینوں میں اچھل رہے تھے کہ کب یہ آواز بلند ہو اور کب ہمیں آگے بڑھ کر نحن انصار اللہ کہنے کی توفیق عطا ہو۔چنانچہ اس پس منظر میں 1934ء میں حضرت مصلح موعود نے اس تحریک کا آغاز فرمایا۔اس وقت کے اقتصادی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور اس وقت کی جماعت کی غربت کو مد نظر رکھتے ہوئے ، آپ نے اپنے اندازے کے مطابق ستائیس ہزار روپے کی تحریک فرمائی۔اور اس پر بھی آپ کا یہ تاثر تھا کہ اس وقت کے جماعت کے اقتصادی حالات مستقل طور پر یہ بوجھ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یا یوں کہنا چاہئے کہ اقتصادی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ مستقل طور پر یہ تحریک جاری نہ کی جائے۔بلکہ چند سال کے لئے قربانی مانگی جائے۔چنانچہ آپ نے تین سال کے لئے اس چندے کا اعلان فرمایا، جس کے ذریعے سے تمام دنیا میں تبلیغ اسلام کی داغ بیل ڈالی جانی تھی۔اس وقت حاضرین اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔بہت سے ایسے تھے، جنہوں نے سمجھا کہ یہ تحریک صرف ایک سال کے لئے ہے۔چنانچہ 203