تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 205
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء نے قربانی میں ایک ساتھ قدم اٹھایا ہے۔اور آج جب ہم اعداد و شمار پرنگاہ ڈالتے ہیں تو ان کے تجزیے سے ہرگز یہ بات سامنے نہیں آتی کہ کسی طبقے نے زیادہ قربانی کی تھی اور کسی نے کم۔امراء نے اپنی توفیق کے مطابق بہت بڑے بڑے قدم اٹھائے۔بڑی بلند ہمتوں کے ساتھ ( دعوؤں کے ساتھ نہیں ) وعدے لکھوائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو پورا کیا۔اسی طرح غرباء اپنی توفیق کے مطابق، بلکہ توفیق سے بڑھ کر اس میں شامل ہوئے۔جوش اور ولولے کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ جب حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان فرمایا کرتے تھے تو جو لوگ سب سے پہلے دفتر تحریک جدید میں پہنچ کر اپنے چندے لکھواتے تھے ، ان میں دو دوست پیش پیش تھے۔ایک کا نام محمد رمضان صاحب تھا، جو مددگار کارکن تھے اور دوسرے کا نام محمد بوٹا ” تانگے والا تھا۔جب تک وہ زندہ رہے، ایک سال بھی اس بات میں پیچھے نہیں رہے۔خدا نے ان کو جتنی توفیق بخشی تھی ، اس کے مطابق وہ لکھواتے تھے اور ادائیگی میں بھی السابقون میں شامل ہوتے تھے۔اور وہ لوگ جو سب سے پہلے پرائیویٹ سیکرٹری کے باہر انتظار کر رہے ہوتے تھے، (اس زمانے میں لوگ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں پہنچا کرتے تھے۔ان میں یہ دونوں دوست پیش پیش ہوتے تھے۔مزدوروں کا یہ عالم تھا کہ سیالکوٹ کے ایک مزدور، جو ان دنوں دو روپے ہاڑی کمایا کرتے تھے ، یعنی دو روپے یومیہ ان کی مزدوری تھی، انہوں نے اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑا یعنی نہیں روپے چندہ لکھوایا۔ایک اور صاحب تھے ، وہ بھی غریب اور کمزور حال تھے، انہوں نے دس روپے چندہ لکھوایا۔تو قربانی کرنے والوں کا یہ حال تھا۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تعلق ہے، وہ فضل ان لوگوں پر بارش کی طرح، اس طرح بر سے ہیں کہ ان پر نگاہ پڑتی ہے تو قربانیاں کہتے ہوئے بھی شرم آنے لگتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان خاندانوں کی کایا پلٹ دی۔ان کی نسلوں کے رنگ بدل گئے۔خدا نے ایسے فضل نازل فرمائے کہ پہچانے نہیں جاتے کہ یہ کون سے خاندان تھے ، کس حالت میں رہا کرتے تھے اور کس تنگی ترشی میں گزارہ کیا کرتے تھے ؟ وہ مزدور ، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اور جس نے تمیں روپے سے اپنے چندے کا آغاز کیا تھا، آج ان کا چندہ تین ہزار، پانچ سوروپے سالانہ ہے۔اور وہ مزدور ، جس نے دس روپے سے اپنے چندے کا آغاز کیا تھا، آج اس کا چندہ 5000 روپے سالانہ ہے۔اور وہ بچہ جس نے پانچ روپے کے ساتھ اپنے چندے کا آغاز کیا تھا، گزشتہ سال اس کا چندہ پانچ ہزار روپے سالانہ سے زائد تھا۔پس ہر عمر کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے 205