تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 9

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء داخل کرنا ہے۔اور نئی چھاپیں نہیں بنائیں۔کیونکہ جب اپنے مزاج کی نیکی کا توازن بگڑنے کے نتیجہ میں آپ کسی نیکی کی طرف بھی زیادہ توجہ دے دیں گے تو وہ بھی نقصان دہ بن جائے گا۔مثلاً بعض پہلوں میں جن پر یہاں زیادہ زور نہیں دیا جاتا ، جب آپ وہاں زیادہ زور دیں گے تو امام سے آگے نکل جائیں گے۔ساری جماعت کا جو مرکزی نظام ہے، یہ بھی آپ کا امام ہے۔ان معنوں میں، میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنے امام سے آگے نکل جائیں گے۔اور خطرات پیدا کر دیں گے مرکز کے لئے بھی اور ان جماعتوں کے لئے بھی۔جب وہ باہر سے آتے ہیں، وہ یہاں آکر دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں اچھا، وہاں تو کوئی اور دین تھا اور یہاں کوئی اور دین۔اور اس طرح فرقہ بندی رواج پکڑتی ہے۔احمدیت ایک ہے۔خدا ایک ہے، اس کے نیچے مذہب بھی ایک ہے۔اس ایک مذہب کی چھاپ سارے ملکوں میں چلنی چاہیے۔جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھاپ ہے۔اور خاتمیت کے ایک یہ بھی معنی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان نقوش کو دوبارہ زندہ کر کے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، جو امتدادزمانہ کی وجہ سے اوجھل ہو گئے تھے۔پس اس چھاپ کی آپ نے حفاظت کرنی ہے۔اور ہر شخص پر یہی لگانی ہے۔ورنہ یہاں بھی ( بیرونی دنیا کا سوال نہیں ) پاکستان میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنی کمزوریاں بھی اپنے ذریعہ سے داخل ہونے والے احمدیوں پر لگا دیتے ہیں۔ٹھپہ وہ لگ جاتا ہے۔بعض مبلغ جو چندوں میں کمزور تھے، ان کی پیدا کردہ جماعتوں کی جماعتیں چندوں میں کمزور ہیں۔بعض جو عبادتوں میں کمزور تھے، ان کی پیدا کردہ جماعتوں کی جماعتیں عبادتوں میں کمزور ہیں۔تو بہت بڑا خطرے کا مقام ہے۔آپ جب خاتم النبین کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے خاتم النبین کو سچا مانا اور ہم ایمان رکھتے ہیں، کامل یقین رکھتے ہیں تو خاتمیت پر یقین کے ایک یہ بھی معنی ہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صفات کو دوسروں میں جاری کرنے کا ایک عظیم ملکہ عطا فر مایا گیا تھا۔اور خاتم کی طرف منسوب ہونے والوں کے اندر وہ ملکہ ہونا چاہیے۔اور نفوذ کرتے وقت وہ امین ہیں۔اپنے ذاتی رجحانات کو نفوذ نہیں ہونے دینا۔وہ امین ہیں اس خاتم کے، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم ہے۔اور امین ہیں اس کی اس شکل کے، جو مرکز سلسلہ میں پیدا ہورہی ہے۔جس کی حفاظت نظام سلسلہ کر رہا ہے۔اگر اس دائرہ کے اندر آپ رہتے ہیں اور آپ کا ذاتی رجحان اس سے مختلف بھی ہوتا ہے، تب بھی آپ اپنے رحجان کو قربان کر دیتے ہیں اور یہ ذمہ داری مرکز پر چھوڑ دیتے ہیں کہ کہاں تک اس کا فیصلہ خاتمیت کے تصور میں درست تھا اور کہاں غلط تھا ؟ تو یہ تقویٰ کا اعلیٰ مقام ہے۔اگر آپ یہ سمجھیں کہ نہیں، 9