تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 8

خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک آگے چلانے کی بجائے تلوار پکڑ کر خود میدان میں کود جاتا ہے تو وہ فوج بھی ماری گئی ، جس کا وہ سپہ سالار ہے اور وہ خود بھی مارا گیا۔سلسلہ کے مبلغین کا منصب قلعہ فتح کرنے والے جرنیلوں کا منصب ہے۔وہ منصب ہے، جو خیبر پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا ہوا تھا۔اور بڑے بڑے مشکل قلعے ہیں، جو آپ نے سر کرنے ہیں۔تو اس مقام کو مد نظر رکھیں۔بجز کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنے منصب سے غافل ہو جائے۔منصب کے تقاضوں سے پوری طرح باخبر رہنا، یہ فرائض میں داخل ہے۔اور ان تقاضوں کے نتیجہ میں فخر نہ کرنا، بجز میں داخل ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے منصب کا بیان فرمایا تو کہیں کوئی تکلف سے کام نہیں لیا۔لیکن ہر دفعہ فرمایا۔ولا فخر۔ولا فخر ولا فخر ولا فخر كه ميرا منصب یہی ہے اور میں اس کی ذمہ داریوں سے خوب واقف ہوں۔لیکن جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، کوئی فخر نہیں۔اللہ تعالیٰ کی دین ہے، اس نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے، اس لئے میں اس کے سارے حقوق و فرائض ادا کروں گا۔پس مبلغ کو اپنے اعلی منصب سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔اور جاتے ہی یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جماعت میں کتنے دوست ہیں، جو سپاہی بنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ کتنے ہیں، جو سپاہی بن چکے ہیں؟ کتنے ہیں، جن کا مقام اس سے اونچا چلا گیا ہے؟ اگر اس حکمت سے آپ کام کریں کے تو اللہ تعالٰی کے فضل سے فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔اور ساتھ ہی ان کی تربیت کا بھی انتظام ہو جائے گا۔کیونکہ تربیت کا بوجھ پھرا کیلے مبلغ پر نہیں پڑے گا۔جو مبلغ ہے، اس پر براہ راست تربیت کا بوجھ پڑا کرتا ہے۔جو لے کر آئے گا، اس پر تربیت کا بوجھ پڑے گا۔لیکن ان لوگوں کی تربیت کرنا، یہ آپ کا کام ہے۔گویا تبلیغ کے سلسلہ میں دو قسم کے کام ہوتے ہیں۔ایک رجمنٹ کی تیاری، رجمنٹ کے جو ہیڈ کوارٹرز ہوتے ہیں، وہاں تربیت دی جاتی ہے۔دوسرا ان سے پھر آگے کام لینا، نئی بھرتی کرنا ، ان کو نکال کر ، مانجھ کر، صیقل کر کے آگے بھجوانا۔اس میں جو بنیادی چھاپ ہے آپ کے مزاج کی، وہ آپ کے تیار کردہ مبلغین پر پڑے گی۔اس لئے اس چھاپ کی آپ نے حفاظت کرنی ہے۔کوئی غلط چھاپ نہ اس پر ڈال دیں۔ورنہ بعد ازاں مصیبت پڑ جاتی ہے۔کسی جگہ اور احمدیت پیدا ہورہی ہے، کسی ملک میں اور احمد بیت Develop ہو رہی ہے۔اس لئے کہ کسی زمانہ میں کسی مبلغ نے اپنے ذاتی رحجانات کو احمدیت کی چھاپ بنا کر اس پر داخل کر دیا۔احمدیت کی چھاپ وہی ہے، جو مرکز میں آپ نے دیکھی ہے۔جو لمبی روایات کے نتیجہ میں ظاہر وباہر ہو کر آپ کے سامنے آچکی ہے۔وہی چھاپ ہے، جس کو آپ نے ہر جگہ نہ ☑