تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 179

تحریک جدید - ایک البی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 اکتوبر 1982ء لذتوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرمارہا ہے کہ تمہیں کم نہیں حاصل ہوں گی۔مثلاً لہو ہے، لہو اختیار کرنے میں بھی ایک لذت ہے۔مگر اللہ کی خاطر چھوڑنے میں بھی ایک لذت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لذت زیادہ ہے۔زینت میں لذت تو ہے لیکن ظاہری زینت میں بھی ایک لذت ہے اور باطنی زینت میں بھی ایک لذت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو باطنی زینت حاصل ہو جائے ، ان کو ظاہری زینت کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، وہ بے نیاز ہو جاتے ہیں۔اور بے نیازی بتا رہی ہے کہ اندرونی زینت زیادہ لذت کا موجب ہے۔اسی طرح تکاثر جو ہے، یعنی مال اور اولاد میں تکاثر، جب مغفرت اور رضوان کے تکاثر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک دوسرے سے دوڑ شروع ہو جاتی ہے مومنوں کی کہ ہم رضائے باری تعالیٰ کو زیادہ حاصل کریں تو اس میں ایسی لذت پاتے ہیں۔وہ ان ساری چیزوں کو حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ پھر یہ ساری چیزیں وہ شوق سے اللہ کے سامنے نچھاور کر دیتے ہیں۔ان کو ان کی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ان سے بے تعلق Detach ہونے لگ جاتے ہیں۔اور ان کو یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ان میں جان ہے ہی کوئی نہیں۔دیکھتے ہی اس کو زرد ہیں۔دنیا کو ایسی حالت میں دیکھتے ہیں، جو ان کی کشش کو جذب نہیں کر سکتی۔بے کیف زندگی دکھائی دیتی ہے۔دنیا میں رہتے ہوئے اس سے ایک علیحدہ زندگی بسر کرنے لگ جاتے ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی توجہ کو اب زیادہ بہتر مقصدیل گیا ہے۔یہ وہ نقشہ ہے، جو جماعت کو اختیار کرنا چاہئے۔کیونکہ اس کو اختیار کئے بغیر ہم دنیا میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔یہ وہ اسلامی معاشرہ ہے، جس کی تصویر کھینچی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخر پر جس کی تصویر کھینچی ہے۔جب تک ہمیں یہ معاشرہ حاصل نہیں ہوتا ، ہم دنیا کے معاشرے کو بدل نہیں سکتے۔بلکہ جب بھی ہم میں سے کوئی اس معاشرے میں جائے گا، وہ مغلوب ہو جائے گا۔میں نے دیکھا ہے، کمزور طبیعت کے لوگ انگلستان اور یورپ کے سفر میں جب ظاہری طور پر لہو واب کو کھل کھیلتا دیکھتے ہیں تو بے انتہا مغلوب ہو جاتے ہیں ذہنی طور پر۔وہ سمجھتے ہیں لوجی ، اصل زندگی تو ہے ہی یہی۔ہم تو خواہ مخواہ خراب ہی رہے دنیا میں، ہم نے کیا حاصل کیا ؟ کچھ بھی نہیں۔رہنا ان کو آتا ہے، پہنا ان کو آتا ہے، اوڑھنا بچھونا ان کو آتا ہے۔کیسی خوبصورت گلیاں ہیں، کیسے خوبصورت محل بنے ہوئے ہیں، خوبصورت Beaches ہیں، سمندر کے کنارے ہیں، باغات ہیں، پارک ہیں، تو ساری زندگی یہیں پڑی ہے۔ہم تو خواہ مخواہ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں، ” جل خراب ہی ہوندے رئے اسی“۔یعنی عمر عمر 179