تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 178
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات : 14) وہ ایسی زینت اختیار کرنے لگ جاتے ہیں، جس میں ان کو ظاہری زینت کی نسبت زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے۔اور چین دل وہ بھی پارہے ہیں، اس زینت میں۔لیکن وہ مختلف قسم کی زینت ہے۔اور اس کے نتیجے میں جب وہ ایسی زینت حاصل کرتے ہیں تو ان میں بھی رشک کے جذبے ہیں۔وہ بھی چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھیں۔لیکن وہ جو سبقت ہے، اس کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:۔كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الحديد (22) ان کے اندر بھی مسابقت کی روح پیدا ہوتی ہے، وہ بھی چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں، لیکن ان کی سبقت کا رخ بدل جاتا ہے۔وہ اموال اور اولاد میں سبقت کی بجائے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے حصول میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور رضائے باری تعالیٰ میں سبقت کی کوشش کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں، جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے:۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ایک ہی قسم کی زندگی میں مبتلا ہونے والے دو قسم کے لوگ دکھائے گئے۔ایک وہ جو دنیا کو اپنا مدعا اور شعار بنا لیتے ہیں۔ایک وہ جو دنیا میں رہتے ہوئے، بظاہر اسی قسم کی زندگی بسر کرتے ہوئے اللہ کو اپنے رب کو اپنا مدعا اور مطلوب بنا لیتے ہیں۔فرماتا ہے۔ان کی زندگی نا کام نہیں ہوتی۔نہ اس دنیا میں ان کو عذاب نصیب ہوتا ہے، نہ اس دنیا میں ان کو عذاب ملتا ہے۔اس دنیا میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے راضی رہتے ہیں اور اس دنیا میں بھی وہ اللہ سے راضی رہیں گے۔اس دنیا میں بھی اللہ کی مغفرت کے نمونے دیکھتے رہتے ہیں اور اس دنیا میں بھی اللہ کی مغفرت کے نمونے دیکھیں گے۔پس یہ وہ پاکیزہ نقشہ ہے اور موازنہ ہے چند الفاظ میں، جس میں ساری انسانی زندگی کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ وہ خصوصیت کے ساتھ ان تمام چیزوں میں یہ پیش نظر رکھے کہ نہ لعب غالب آئے ، نہ لہو غالب آئے ، نہ زینت غالب آئے ، نہ تفاخر غالب آئے ، نہ تکاثر غالب آئے۔یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ اگر وہ دنیا کے لحاظ سے قوموں پر غالب آجائیں تو قو میں تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔بلکہ ان سارے جذبات کو مذہبی اقدار میں تبدیل کریں اور مذہبی اقدار کی پیروی کی طرف اپنی تو جہات کو مبذول کر دیں۔178