تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 6

خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریکہ کے نتیجہ میں اس کو قوت اور عظمت ملتی ہے۔اور کچھ دیر کے بعد بیمار دلوں کو شفا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔لیکن اگر محبت اور انصاف کے معاملات کو مدغم کر دیا جائے اور اپنے ذہن میں ہی فرق نہ رہے کہ پیار کیا ہوتا ہے؟ اور انصاف کیا ہوتا ہے؟ تو ایسے لوگ ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں اور طرح طرح کی مصیبتوں میں خود اپنے آپ کو مبتلا کر لیتے ہیں۔پس ہر معاملہ میں انصاف قائم کریں۔اور محبت کے تقاضے اسلامی قدروں کے مطابق پورے کریں، نہ کہ ذاتی قدروں کے مطابق۔اسی سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بیرونی جماعتیں خاص طور پر اپنے حقوق نہیں جانتیں۔اور بہت سے فتنے اس طرح پیدا ہوئے ہیں کہ مقامی جماعتوں کو اپنے حقوق کا علم نہیں تھا اور مبلغ نے ان کے حقوق ان کو بتائے بھی نہیں۔اور جب وہ ایک معاملہ میں واقعتا دل میں یہ سمجھتے تھے کہ معلم یا مبلغ غلط کام کر رہا ہے اور اس کو طریق کار کا پتہ نہیں تھا کہ میں نے کس طرح رپورٹ کرتی ہے؟ اور کیا سلوک کرنا ہے؟ کیا میراحق ہے؟ کیا اس کا حق ہے؟ تو مبلغ چونکہ سب کچھ جانتا تھا ، ایسا بھی ہوا ہے، میں ہر مبلغ کی بات نہیں کر رہا، مگر مبلغین میں سے ایسے بھی تھے، جنہوں نے یہ کیا ، انہوں نے اپنے بہتر علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اس کو مرکز کی نظر میں مجرم ثابت کر دیا، جو ان کا مخالف تھا۔خواہ آغاز میں وہ حق بجانب بھی تھا۔سلسلہ نے اپنی روایات کوملحوظ رکھ کر فیصلہ کیا اور پتہ چلا کہ فلاں شخص مجرم ہے کیونکہ اس نے نظام سلسلہ کو توڑا ہے، اس نے کھڑے ہو کر اپنے امیر کے متعلق ایسی باتیں کی ہیں، اس نے مخالفانہ رویہ اختیار کیا ہے، اسہ یہ ساری باتیں مرکز کی آنکھ تو دیکھتی ہے، اپنی سابقہ روایات کے نقطہ نظر سے۔وہاں کے حالات کی نظر سے تو اس کو پتہ ہی نہیں چل رہا ہوتا کہ کیا ہے؟ جو مبلغ وہاں سے لکھ رہا ہوتا ہے، وہی تصویر یہاں بن رہی ہوتی ہے۔تو ایسے مبلغ اگرفتوں کے بعد خوشی کے یہ شادیانے بجا ئیں کہ ہم کامیاب ہو گئے اور جماعت کا اتنا حصہ کاٹا گیا ، جس نے مخالفت کی تھی، اس کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔خدا کے نزدیک ہو سکتا ہے، وہ خود کاٹے گئے ہوں۔اور وہ معصوم ، انہوں نے ان کی وجہ سے ٹھو کر کھائی ہے، اللہ کی نظر میں ہو سکتا ہے، ان کا مقام بہتر ہو۔اس لئے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے حصے بخرے کرنے کے لئے نہیں جانا۔اور حقوق کا معاملہ انصاف سے پھوٹتا ہے، اس لئے میں نے انصاف کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔انصاف کا اولین تقاضا یہ ہے کہ خواہ دشمنی ہو، خواہ معاملہ آپ کے خلاف جاتا ہو، جس کا جو حق ہے، اس کو خوب بتا ئیں اور کھول کر بتا ئیں۔پہلے یہ سمجھا ئیں کہ تم نے یہ جو حرکت کی ہے، میرے خلاف رپورٹ کرنے میں، اگر یہ اس طرح مرکز میں جائے گی تو تمہارے خلاف 6