تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 5

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982 ء فیصلوں میں، اپنے تعلقات بنانے میں، اپنی preferences اپنی ترجیحات قائم کرنے میں جلدی سے کام نہ لے۔اسی لئے میں نے ابھی آپ سے گذارش کی تھی کہ آپ فائلوں کا مطالعہ کر کے یہاں سے جایا ہیں، یہ بہت ضروری بات ہے۔فیصلوں کے لئے بہت ساری روشنی آپ کو فائلوں سے مل جائے گی۔پھر وہاں جا کر ہر ایک کی بات سنیں۔اور آپ یہ دیکھیں گے کہ جاتے ہی مبلغ کے اردگرد ایک خاص دلچسپی لینے والوں کا گروہ اکٹھا ہو جائے گا۔اس میں دو قسم کے آدمی شامل ہوں گے، ایک وہ جو حقیقتا مخلص ہیں اور ہر واقف زندگی سے للہی محبت رکھتے ہیں۔مرکز کی طرف سے جو بھی آتا ہے، اس سے پیار کا اظہاران کی فطرت میں داخل ہے۔کچھ وہ ہوں گے، جنہوں نے اس انتظار میں دن کاٹے ہوں گے کہ نیا مبلغ آئے اور ہم اس پر حاوی ہو جائیں۔اور شروع میں ان کی محبتوں کا فرق کرنا بڑا مشکل کام ہے۔سوائے اس کے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ خاص نور بصیرت عطا فرمائے اور وہ فوراً پہچان جائے کہ یہ اخلاص سچا ہے اور یہ جھوٹا ہے۔اس لئے بھی ضروری ہے کہ فیصلے میں کوئی جلدی نہ کی جائے۔دعا کرتے رہیں اور ہر ایک کی بات سنیں۔اس کے بعد جب فیصلے کرتے ہیں تو فیصلے میں ایک گروہ کو پیچھے دھکیلنا اور دوسرے کو قریب کرنا شامل نہیں ہونا چاہیے۔فیصلہ یہ ہونا چاہیے کہ جو گر وہ دور ہے، اس کو مصنوعی طور پر نہیں بلکہ حقیقتا قریب کیا جائے۔اور مبلغ کا مقام پارٹی بازی سے بالا ہو جانا چاہیے۔جہاں بھی مبلغ کسی پارٹی میں ملوث ہو جائے اور دوسرے فریق کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ فریق بن گیا ہے، وہاں مبلغ کام کرنے کے اہل نہیں رہا کرتا۔اس ضمن میں ایک باریک فرق ہے، جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔نیک لوگ نیک لوگوں سے محبت کیا کرتے ہیں، یہ ایک طبعی امر ہے۔اور فتنہ پردازوں سے ان کا دل نہیں لگتا۔اس لئے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ فتنہ پردازوں سے بھی اسی طرح گلے لگ کے بیٹھیں اور ان کی صحبتیں اختیار کریں۔یہ ہرگز مراد نہیں ہے۔یہ فطرت کے خلاف بات ہے کہ اس کی محبت برابر ہو جائے۔لیکن محبت برابر نہ بھی ہو تو انصاف برابر ہو سکتا ہے۔انصاف بنیادی چیز ہے۔اگر انصاف برابر ہو جائے تو محبتوں کا برابر نہ رہنا، یہ ایک طبعی امر ہے۔اور اس کا نام محبت رکھا ہی اس لئے گیا ہے کہ یہ دل کے معاملات ہیں، اس کا کسی قانون کے ساتھ تعلق نہیں۔پس محبتوں میں اور انصاف میں فرق کریں۔اگر کوئی منافق بھی ہو، اس کو یہ یقین ہو جائے کہ یہ مربی انصاف کے معاملہ میں سب کے ساتھ برابر ہے۔جتنی سچی بات میں نے کی تھی ، اس کو یقینا اس نے اخذ کیا اور جو اس کے زیادہ پیارے ہیں بظاہر ان کے مقابل پر بھی میری کچی بات کو رد نہیں کیا گیا، اس لئے کہ میرے منہ سے نکلی ہے، اس کا رفتہ رفتہ ایک ایسا وقار قائم ہو جاتا ہے کہ اس 5