تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 139
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطاب فرموده 117 اکتوبر 1982ء پس یہ ہیں اللہ کے فضل، جو قطروں کی طرح نہیں، بارش کی طرح نازل ہوئے ہیں۔غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ نے ہر جہت سے، ہر روحانی جہت سے جماعت پر اپنے فضل فرمائے۔اور ان کے اخلاص میں غیر معمولی ترقی عطا فرمائی۔یہ ایک بہت لمبی داستاں ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا، مجھے سپین کی باتیں کرنی ہیں، اس لئے میں اس کو فی الحال چھوڑتا ہوں۔ضمنا یہ بیان کر دوں کہ اس سارے سفر کے دوران غیر مذہبی دنیا میں بھی ہم نے اللہ تعالیٰ کے تصرفات کے عجیب نظارے دیکھے۔وہ آنکھیں، جو شروع میں خشونت رکھتی تھیں، وہ نگا ہیں، جو شک سے دیکھ رہی تھیں، ان کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں۔دشمنی کی نگاہیں دوستی میں بدلیں ، دوستی کی نگاہیں محبت میں بدلیں۔اور پریس کانفرنسز کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف فرمایا کہ ہر پریس کانفرنس ایک مذہبی تبلیغ کا ذریعہ بن گئی۔اور پھر اس تبلیغ کو بہت سے اخبارات نے اپنے صفحات میں شائع بھی کیا۔یہاں تک کہ بعض ایسے اخبارات نے بھی، جو عیسائیت کے نمائندہ تھے، جن کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ یہ تو آئے ہیں، صرف حاضری دینے کے لئے۔چونکہ عیسائی دنیا کے نمائندہ ہیں، اس لئے مذہبی باتیں اسلام کے حق میں تو شائع کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے ان سے توقع نہ رکھی جائے۔ایک ایسے ہی اخبار نے سب سے زیادہ شاندار الفاظ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ کی ہے۔اور ایسا بھر پور، پر مغز مقالہ لکھا اور احمدیت کی طرف سے دلائل اس رنگ میں پیش کئے کہ جس سے لکھوکھا غیروں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک احسن رنگ میں اسلام کا پیغام ملا۔آپ کہیں اور ذرا سوچیں کیا اس میں مبالغہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اسلام کا پیغام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کی جھلکیاں عیسائی اخبار کے ذریعہ لکھوکھا انسانوں تک پہنچ رہی ہوں۔اسی کا نام تو بارش ہے۔صرف اس پہلو سے آپ دیکھیں تو کروڑ ہا یورپ کے بسنے والوں نے اس آنکھ سے اسلام کو دیکھا، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت کی آنکھ تھی۔اس آنکھ - حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کا نظارہ کیا، جو عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد کی آنکھ تھی۔اور اس حسن کو محسوس کیا اور اس کی تپش اپنے سینے میں محسوس کی۔یہی تو فضل ہیں اللہ تعالیٰ کے، جن پر آپ کروڑوں اربوں روپے بھی خرچ کرتے تو اپنی قوت بازو سے اس کو حاصل نہیں کر سکتے تھے۔دنیا میں ایسے ملک بھی ہیں، جن میں جماعت ہزار ہا بلکہ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے بطور اشتہار ہی یہ بات شائع کروانا چاہتی تھی کہ آپ ہمدردی میں نہ سہی، پیسے لیجئے اور اشتہار کی قیمت سے دس گنا زیادہ پیسے لیجئے ، لیکن شائع تو کر دیں کہ پین میں خدا کا گھر بنایا جارہا ہے، سات، آٹھ سو سال کے توقف کے 139