تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 138
خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے خشکی بھی فسق و فجور اور عصیان اور بدیوں سے بھر گئی تھی اور تری بھی بھر گئی تھی۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمیں یہ معنی سمجھائے کہ خشکی سے مراد غیر مذہبی دنیا ہے اور تری سے مراد مذہبی دنیا ہے۔کل عالم ہی گندہ ہو چکا تھا۔جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔تو ان معنوں میں، میں یہ استعمال کر رہا ہوں۔قرآنی محاورہ میں حقیقتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں نے خشکی کو بھی بھر دیا اور تری کو بھی۔خدا کے فضل حقیقت میں دلوں پر نازل ہوا کرتے ہیں۔اور یہ قلب سے تعلق رکھنے والا محاورہ ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے دلوں میں بھی ہم نے غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضلوں کی بارش برستے دیکھی اور غیر مذہبی دنیا، جو بظاہر مذہب کی طرف منسوب ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ان کی بھاری اکثریت خدا کی بھی قائل نہیں رہی، ان کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص قدرت کے ساتھ فرشتے نازل ہوتے دیکھے، جنہوں نے ان کے دلوں کو اسلام کے حق میں مائل کیا۔اور خوب کثرت کے ساتھ اور اس شدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوئی کہ آنکھیں اس نظارہ کو دیکھتی تھیں تو نمناک ہو جاتی تھیں، دل خدا کی حمد کے گیت گاتا تھا۔یہ ایک لمبا مضمون ہے۔یورپ کی جو جماعتیں ہیں، وہ ان حالات میں سے گزری ہیں۔ان کو علم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کے دلوں کو مربوط فرمایا اور دیکھتے دیکھتے ان کے اخلاص میں ترقی دی۔وہ چہرے، جو پہلے خاموش خاموش چہرے تھے، ان پر روحانیت کی نئی چمک آنی شروع ہوئی۔وہ آنکھیں، جو خشک آنکھیں تھیں، اللہ کی یاد سے تر ہونے لگیں۔اور خدا کی یاد میں آنسو بہانے لگیں۔ایک ایسا عجیب نظارہ تھا، خدا کے فضلوں سے دلوں کے بھرنے اور پھر ان کے چھلک جانے کا۔وہی لوگ اس سے پوری طرح لذت یاب ہو سکتے ہیں، جوان واردات میں سے گزرے ہوں اور جنہوں نے یہ واردات اپنے سامنے گزرتی دیکھی ہوں۔اس کی تفصیلات یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں۔نمونہ وہ لوگ جو اعداد وشمار میں جانچنا جانتے ہیں، ان کے لئے مثال کے طور پر یہ بات رکھتا ہوں کہ بعض ملکوں میں جہاں جماعت خود کفیل نہیں تھی بلکہ تقریباً نصف کے قریب ان کو بیرونی دنیا سے مالی مدد دی جاتی تھی، دویا تین دن کے اندر اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قدر قربانی کی طرف وہ لوگ مائل ہوئے کہ ہم ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچتے تھے تو پیچھے سے مبلغ کی اطلاع آجاتی تھی کہ یہ جماعت اب خود کفیل ہو چکی ہے۔اب کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔138